منگلا ڈیم سکیم جعلی کلیم سے سرکاری زمینوں کی بندربانٹ رپورٹ ڈپٹی کمشنر کوجاری
جعلی انتقالات کیلئے کالونی برانچ کے ذریعے کاغذی کارروائی ،سول عدالت سے رجوع،اینٹی کرپشن میں 2019میں مقدمہ درج،ریکارڈ کیپر اور ہیڈکلرک کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) اینٹی کرپشن سرگودھا نے محکمہ مال کی ملی بھگت سے منگلا ڈیم سکیم کے تحت جعلی کلیم کے ذریعے اربوں روپے کی سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے انکوائری کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو جاری کر دی ،محکمہ مال کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کر کے رپورٹ واپس بھجوانے کی ہدایت کر دی ،ذرائع کے مطابق سابقہ ادوار میں منگلا ڈیم سکیم کے تحت سرگودھا میں مبینہ طورپر متعدد جعلی کلیم بنا کر سرکاری زمینوں کی بوگس الاٹمنٹس کی جا چکی ہیں،جعلی انتقالات کیلئے کالونی برانچ کے ذریعے مختلف اقسام کے کاغذات بنا کر پہلے سول عدالتوں سے رجوع کیا گیا پھرمتعلقہ حلقوں کے پٹواری اور کالونی برانچ، رورل رجسٹری برانچز،نقول برانچ کے توسط سے کاغذات مکمل کر کے مختلف پرائیویٹ افراد کے نام رقبہ جات کا اندراج کروایا گیا، اینٹی کرپشن سرگودھا نے 2019میں مقدمہ درج کیا ،لیکن ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ محکمانہ طور پر کاروائی کی بجائے ذمہ داروں کو بچانے میں مصروف رہی ،یکٹ فائنڈنگ رپورٹ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر کو ارسال کرتے ہوئے تصدیق کی گئی کہ کالونی برانچ میں الاٹمنٹ کی بوگس فائلیں تیار کی گئیں ،ریکارڈ کیپر محمد انور اور ہیڈ کلرک محمد سبطین نے ملی بھگت سے جعلی اور ٹیمپرڈ الاٹمنٹ فائلیں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیں،دونوں کیخلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔