مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ سازباز، سٹاکس کا ریکارڈ چھپایا

مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ سازباز، سٹاکس کا ریکارڈ چھپایا

اب صرف اشیاء کی قیمتوں کا چار ٹ جاری کیا جاتا جن قیمتوں پر یہ اشیاء فروخت ہو رہی ہیں ان کا ذکر ہی نہیں، انتظامیہ کی ناک تلے کھل کر ناجائز منافع خوری ہو رہی دوکاندار پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا آسان شکار ثابت ہونے لگے ،انتظامیہ سرکاری ریکارڈ میں سب اچھا کا راگ الاپ رہی ،کھلی مارکیٹوں میں گرانفروشی عروج پر پہنچ گئی

سرگودھا(نعیم فیصل سے )مارکیٹ کمیٹی منافع خوروں سے مبینہ ساز باز کر کے ضلعی و صوبائی حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہے جس کا انداز اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل بڑے سٹاکس کا ریکارڈ مرتب کر کے ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے مگر بد قسمتی سے ریکارڈچھپا لیا گیااور اب صرف اشیاء کی قیمتوں کے تعین کا چار ٹ جاری کیا جاتا ہے جبکہ جن قیمتوں پر یہ اشیاء فروخت ہو رہی ہیں ان کا سرے سے ذکر ہی نہیں، اور بڑے بڑے سٹاکسٹ اور ذخیرہ اندوز انتظامیہ کی ناک تلے کھل کر ناجائز منافع خوری کرنے میں مصروف جبکہ چھوٹ دوکاندار پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا آسان شکار ثابت ہونے لگے جس سے سرکاری ریکارڈ کا پیٹ بھرنے میں آسانی جبکہ کھلی مارکیٹوں میں گرانفروشی عروج پر پہنچ گئی ہے ،ذرائع کے مطابق مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ مبینہ ساز باز کر کے دوہری پالیسی اپنا کو شہریوں کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑکر سرکاری ریکارڈ میں سب اچھا کا راگ الاپ رہی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس روش کی توثیق کر کے اپنی کارکردگی بہتر سے بہتر ظاہر کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کے تعین کی جو رپورٹ ارسال کی جاتی ہے اسے من و عن تسلیم کر لیا جاتا ہے جبکہ یہ تک تصدیق کرنا گوارہ نہیں کیا جاتا کہ یہ اشیاء ان نرخوں پر فروخت بھی ہو رہی ہیں یا نہیں؟گزشتہ روز بھی مارکیٹ کمیٹی کی طر ف سے جاری کی گئی ریٹ لسٹ کے مطابق کیلا درجن220/210جبکہ مارکیٹ میں فروخت 300/280،سیب کالا 400/410 جبکہ فروخت 550روپے ،گولڈ ن سیب کی قیمت 275روپے مقرر کی تھی مگر فروخت350/400روپے میں ہوتا رہا، امرود 120/130روپے جبکہ مارکیٹ میں فروخت 200/220روپے ،اسی طرح کینو فی درجن 140روپے کی بجائے 300روپے ،ایرانی کجھور 500روپے کی بجائے 700رپے ،آلونیا 20روپے کی بجائے 30روپے ،اسی طرح پیاز ’ ٹماٹر ’ بینگن ’ بھنڈی توری ’ کالی توری ’ گھیا توری ’ گھیا کدو’ پیٹھا کدو ’ کریلا ’ ٹینڈا’ گاجر ’ پالک ’ لہسن ’ پھول گوبھی ’ اروی ،شملہ مرچ و دیگر سبزیاں بھی مقرر کردہ قیمت کی بجائے 20سے 40فیصد زائد نرخوں پر فروخت ہوتی رہیں مرغی کا گوشت 460روپے کی بجائے 550روپے بکتا رہا،دوکانداروں کا کہنا ہے کہ ہمیں اشیاء مہنگی ملتی ہیں، انتظامیہ کے افسران کو ہر مرتبہ نشاندہی کی جاتی ہے مگر وہ بڑے گرانفروشوں کی بجائے ہمارے ہی خلاف قانونی کاروائی کر کے اپنا ریکارڈ مرتب کرتے ہیں اور چلتے بنتے ہیں۔

 چھ رمضان المبارک تک ایک بھی بڑا سٹاکسٹ یا ذخیرہ اندوز ابھی تک نہیں پکڑا گیاجبکہ ان کے کوائف انتظامی دفاتر میں افسران کی ٹیبلز پر پڑے ہیں ، اس کے مقابلہ میں درجنوں دیہاڑی داروں کو انتظامی کاروائیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ،جس سے دوکاندار احتجاج کیلئے پر تولنے لگے ہیں، دوسری طرف بازاروں میں ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول نہ ہونے کے باعث شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ عام بازاروں اور گردونواح میں بڑھتی ہوئی گرانفروشی نے حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان لگا رکھا ہے ،غریب عوام منہ مانگے داموں پر اشیاء خریدنے پر مجبور ہے حکومت اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے بازاروں میں فروخت ہونیوالی اشیاء کو کنٹرول کرے تو عوام کیلئے یہی سب سے بڑی ریلیف ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ کمشنر سرگودھا عام بازاروں اور گلی محلوں کی دوکانوں کی بجائے جن بڑے سٹاکسٹوں /مڈل مین /ڈیلرز سے یہ سامان خریدتے ہیں ان کا بھی محاسبہ کیا جائے ،تب ہی عوام کو ریلیف مل سکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں