ہیلتھ اتھارٹی میں مالی بے ضابطگیاں بڑھ گئیں
جنرل پرپز ہیڈ کے تحت منفی بیلنس کا برقرار رہنا مالی بدانتظامی کی نشاندہی کرتا ،اکاؤنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اضافی بلوں کو قابل قبول قرار دیدیا اکاؤنٹ آفس میں اپریل 2026 سے آگے دستیاب بیلنس سے زیادہ کوئی بل قبول نہیں کیا جائے گا تاکہ حرف بہ حرف عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے
سرگودھا(نعیم فیصل سے ) ایک طرف تو محکمہ صحت سرگودھا میں بجٹ اور اخراجات میں عدم توازن کے باعث ادارہ کو شدید مالی مشکلات در پیش ہیں اور آئے روز ایڈیشنل بجٹ کی ڈیمانڈز انتظامی منظوری کے بعد حکام کو ارسال کر نے کے ساتھ ساتھ دستیاب فنڈز کے استعمال حوالے سے بھی خامیاں اور مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جس پر اکاؤنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اضافی بلوں کو قابل قبول قرار دیدیا، ذرائع کے مطابق گزشتہ ادوار کی نسبت حالیہ دو مالی سالوں میں ہیلتھ اتھارٹی سرگودھا میں مالی بے ضابطگیاں بڑھی ہیں،اس سلسلہ میں گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر 1کی جانب سے ہیلتھ اتھارٹی کو جاری مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی تشویش کے ساتھ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ مارچ 2026 کے مہینے کے دوران جنرل پرپز ہیڈ کے تحت منفی بیلنس کا برقرار رہنا مالی بدانتظامی کی نشاندہی کرتا ہے اور حکومت پنجاب، محکمہ خزانہ کی جاری کردہ ہدایات کی واضح خلاف ورزی ہے ۔ اس قسم کی انحرافی عمل منظور شدہ مقصد اور دستیاب اجرا سے تجاوز کرتے ہوئے فنڈز کے غیر مجاز استعمال کی عکاسی کرتا ہے ، جو کہ ایک سنگین بے قاعدگی ہے ۔ یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ اکاؤنٹ آفس میں اپریل 2026 سے آگے دستیاب بیلنس سے زیادہ کوئی بل قبول نہیں کیا جائے گا تاکہ حکومت پنجاب، فنانس ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات پر حرف بہ حرف عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے ۔