200 سے زائد کچی آبادیاں مالکانہ حقوق سے محروم
معاملہ مبینہ بے ضابطگیوں، ریکارڈ میں خامیوں،انتظامی تاخیر کے باعث تاحال حل طلب
سرگودھا (سٹاف رپورٹر )شہر سمیت ضلع بھر کی 200 سے زائد کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کا معاملہ مبینہ بے ضابطگیوں، ریکارڈ میں خامیوں اور انتظامی تاخیر کے باعث تاحال حل طلب ہے ، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان شدید بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت پنجاب نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کے منصوبے پر پیش رفت کی غرض سے ضلعی انتظامیہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔ اس مقصد کے لیے کچی آبادیوں کے سروے اور ریکارڈ کی تیاری کا کام پٹواریوں اور محکمہ مال کے دیگر اہلکاروں کے سپرد کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سروے ٹیموں کی جانب سے مرتب کی جانے والی فہرستیں بعد ازاں ضلعی انتظامیہ نے من و عن حکومت پنجاب کو ارسال کر دیں، تاہم جانچ پڑتال کے دوران ان فہرستوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور مبینہ بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ متعدد کچی آبادیوں کی خالی جگہوں پر من پسند افراد کو قابض ظاہر کیا گیا، جبکہ 1999ء سے قبل کے حقیقی الاٹیوں اور مستحق مکینوں کے نام اور کوائف کئی مقامات پر ریکارڈ سے غائب پائے گئے ۔
ذرائع کے مطابق فہرستوں میں موجود خامیوں اور اعتراضات کا معاملہ جب اعلیٰ سطح پر پہنچا تو چیف سیکرٹری پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے مالکانہ حقوق کی منظوری کے لیے بھجوائی گئی فہرستیں واپس کر دیں اور انہیں ازسرِنو درست کرنے کی ہدایت جاری کی۔ تاہم حیران کن طور پر ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو ان فہرستوں کی مکمل درستی کی جا سکی ہے اور نہ ہی مسترد شدہ ریکارڈ کو ازسرِنو مرتب کرنے کا عمل مکمل ہو سکا ہے ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ریکارڈ کی چھان بین اور تصحیح کے عمل میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی صورت میں مختلف محکموں کے بعض افسر، ملازمین اور چند بااثر سیاسی شخصیات کے نام سامنے آنے کا امکان ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار حکومتی ہدایات اور یاد دہانیوں کے باوجود یہ معاملہ مسلسل التوا کا شکار ہے ۔دوسری جانب کچی آبادیوں کے مکین، جو کئی دہائیوں سے مالکانہ حقوق کے منتظر ہیں، حکومتی وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ مالکانہ حقوق نہ ملنے کے باعث وہ اپنی جائیدادوں کی خرید و فروخت، تعمیرات، بینک فنانسنگ اور دیگر قانونی معاملات میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔