شہر میں بلڈنگ کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد سنگین چیلنج بن گیا

شہر میں بلڈنگ کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد سنگین چیلنج بن گیا

کمرشل علاقوں میں تعمیر عمارتوں میں حفاظتی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) شہر میں ناقص منصوبہ بندی، بدانتظامی اور متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث بلڈنگ کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے ، جبکہ مختلف اہم شاہراہوں اور کمرشل علاقوں میں تعمیر ہونے والی عمارتوں میں حفاظتی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق بیشتر کمرشل پلازوں اور زیر تعمیر عمارتوں میں بلڈنگز کوڈ آف پاکستان اور حکومتی ایس او پیز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، جس کے باعث شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل ایک اعلیٰ سطحی سروے ٹیم نے شہر بھر میں زیر تعمیر درجنوں کمرشل عمارتوں اور پلازوں کا تفصیلی معائنہ کیا تھا۔ انسپکشن کے دوران متعدد عمارتوں میں ناقص میٹریل، غیر معیاری تعمیراتی طریقہ کار اور پروفیشنل انجینئرنگ سپرویژن کے فقدان کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کئی عمارتوں کی تعمیر بغیر منظور شدہ نقشہ جات اور حفاظتی تقاضے پورے کیے بغیر جاری ہے ، جبکہ فائر سیفٹی سسٹمز، ایمرجنسی ایگزٹ اور پارکنگ جیسے بنیادی نکات کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے ،سروے رپورٹ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ کو ارسال کیے جانے کے بعد متعلقہ محکموں کو سخت اقدامات اٹھانے ، غیر قانونی تعمیرات روکنے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، تاہم ذرائع کے مطابق نچلی سطح پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر رہا۔ بیشتر تعمیراتی منصوبے اب بھی ‘‘ڈنگ ٹپاؤ پالیسی’’ کے تحت جاری ہیں اور کسی مؤثر مانیٹرنگ یا مستقل چیک اینڈ بیلنس کا نظام دکھائی نہیں دیتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں