سرگودھا میں آلودہ پانی سے سبزیوں کی کاشت کا انکشاف، شہریوں کی صحت کو خطرات
سیوریج کا پانی سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال کیا جا رہا ،مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث غیر قانونی عمل بدستور جاری ، دھاتیں، جراثیم اور زہریلے کیمیکل انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک :طبی ماہرین
سرگودھا (سٹاف رپورٹر )حکومتی احکامات اور محکمہ ماحولیات کی نشاندہی کے باوجود ضلع کے مختلف علاقوں میں سیوریج اور آلودہ پانی سے سبزیوں کی کاشت کا سلسلہ تاحال جاری ہے ، جس کے باعث شہریوں میں مختلف خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔محکمہ ماحولیات سرگودھا نے آلودہ اور سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کی نشاندہی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو کارروائی کی سفارش کی تھی، تاہم کافی عرصہ گزرنے کے باوجود مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث یہ غیر قانونی عمل بدستور جاری ہے ۔بالخصوص سلانوالی روڈ اور بھلوال روڈ سے ملحقہ شمالی علاقوں میں سیوریج کا پانی سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ، شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ان ں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں فروخت ہونے والی سبزیوں کے بارے میں صارفین کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کن حالات میں تیار کی گئی ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق گندے پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیوں میں بھاری دھاتیں، جراثیم اور زہریلے کیمیکل شامل ہو سکتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ ایسی سبزیوں کے مسلسل استعمال سے معدے ، جگر اور آنتوں کے امراض، ہیپاٹائٹس، جلدی بیماریاں اور بعض صورتوں میں کینسر جیسے خطرناک امراض کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے انتظامیہ، محکمہ ماحولیات اور محکمہ زراعت سے مطالبہ کیا ہے آلودہ پانی سے سبزیوں کی کاشت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ۔