اربوں کی اراضی منتقل کرنیکی تحقیقات تعطل کا شکار

اربوں کی اراضی منتقل کرنیکی تحقیقات تعطل کا شکار

اعلیٰ سطحی چھان بین کا آغاز کیا گیا اہم حقائق سامنے آئے ،تحقیقات میں انکشاف ہوا مختلف ادوار میں مجموعی طور پر 447 ناموں کی تکمیل کی گئیدھوکہ دہی، جعلی دستاویزات اور فیلڈ عملے کی غلط رپورٹس کی بنیاد پر حقوق ملکیت منتقل کیے گئے ، کارروائیاں لینڈ مافیا کی ملی بھگت سے ممکن بنائی گئیں

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ضلع میں صوبائی حکومت کی ملکیتی اربوں روپے مالیت کی اراضی جعلی ناموں کے ذریعے منتقل کیے جانے کے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اہم انکشافات سامنے آنے کے بعد مبینہ طور پر تعطل کا شکار ہو گئی ہیں،ذرائع کے مطابق مواضعات 91 شمالی، 82 شمالی، 188 شمالی اور دیگر علاقوں میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران نان الاٹیز اور فرضی افراد کے ناموں پر جعلی بیعہ ناموں کے ذریعے صوبائی حکومت کی قیمتی اراضیوں پر حقوق ملکیت حاصل کیے گئے ۔ اس معاملے کی سنگینی کے پیش نظر گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں اعلیٰ سطحی چھان بین کا آغاز کیا گیا جس کے دوران متعدد اہم حقائق سامنے آئے ،تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مختلف ادوار میں مجموعی طور پر 447 بیعہ ناموں کی تکمیل کی گئی، جن میں سے بیشتر میں مبینہ دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات اور فیلڈ عملے کی غلط رپورٹس کی بنیاد پر حقوق ملکیت منتقل کیے گئے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض جعلی بیعہ ناموں کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے اور یہ تمام کارروائیاں مبینہ طور پر لینڈ مافیا، پراپرٹی ایجنٹس اور محکمہ ریونیو کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے ممکن بنائی گئیں،مزید انکشافات کے مطابق موضع 84 شمالی میں 15 سالہ سکیم کے الاٹیوں کو بھی قواعد و ضوابط کے برعکس حقوق ملکیت دیے گئے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں