بچوں کو جبری مشقت سے نجات دلانے کا منصوبہ فلاپ

بچوں کو جبری مشقت سے نجات دلانے کا منصوبہ فلاپ

دعوؤں اور کمیٹیوں کے باوجود بھٹہ مزدوروں کی حالت زار میں نمایاں بہتری نہ آ سکی،ساڑھے تین سو سے زائد بھٹہ خشت پر ہزاروں مزدور خاندان کام کر رہے ہیںمہنگائی، کم اجرت، قرضوں کے باعث زندگیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں، کئی خاندان نسل در نسل قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مزدروں کی گفتگو

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) بھٹہ خشت مزدوروں کی فلاح و بہبود، ان کے بچوں کو جبری مشقت سے نجات دلانے اور انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے شروع کیا گیا منصوبہ عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث فلاپ ہو گیا ہے ۔ حکومتی دعوؤں اور کمیٹیوں کے باوجود بھٹہ مزدوروں کی حالت زار میں نمایاں بہتری نہ آ سکی،ذرائع کے مطابق سرگودھا میں موجود ساڑھے تین سو سے زائد بھٹہ خشت پر ہزاروں مزدور خاندان کام کر رہے ہیں، جن میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مزدوروں کے مطابق مہنگائی، کم اجرت، قرضوں اور محدود وسائل کے باعث ان کی زندگیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کئی خاندان نسل در نسل قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں،مزدوروں کا کہنا ہے کہ بھٹوں پر کام کرنے والے خاندانوں کے بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں اور غربت کے باعث کم عمری میں ہی مزدوری پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انسانی حقوق اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے قائم کمیٹیاں اور ادارے بھی عملی سطح پر مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے ،ذرائع کے مطابق سابقہ دور میں بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو سکولوں تک لانے ، جبری مشقت کے خاتمے اور مزدور خاندانوں کی بحالی کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے گئے تھے ، تاہم بعد ازاں ان منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...