ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کا ڈیزل چوری کا انکشاف
نگرانی کے نظام پر سوالات ، 4ملازمین اشفاق احمد، سمیع اللہ، ثاقب مسیح اور زین اکبر ڈیزل چوری کرتے پکڑے گئے ، مقدمہ درج
سرگودھا (نعیم فیصل سے) ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کیلئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے ماہانہ لاکھوں روپے مالیت کے ڈیزل میں مبینہ خوردبرد کا معاملہ سامنے آنے پر پروگرام کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب کے ایک ٹریکٹر سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران مبینہ طور پر ہزاروں لیٹر ڈیزل چوری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، جبکہ ملازمین کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ستھرا پنجاب کے فورمین محمد اسماعیل کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق چار ملازمین اشفاق احمد، سمیع اللہ، ثاقب مسیح اور زین اکبر مبینہ طور پر گزشتہ چھ ماہ سے پی ایچ اے کے ٹی سی پوائنٹ سے ستھرا پنجاب کی گاڑی کیلئے فراہم کیا جانے والا ڈیزل چوری کررہے تھے ۔
معاملہ سامنے آنے پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔پولیس نے نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مار کارروائیاں بھی شروع کردی ہیں، جبکہ مبینہ طور پر چوری کیے گئے ڈیزل اور واقعے میں ملوث افراد کے حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ پولیس تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ ڈیزل چوری میں کون کون ملوث تھا اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی اصل مالیت کتنی ہے ۔واقعہ سامنے آنے کے بعد اعلیٰ انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی ہے اور ستھرا پنجاب کے تحت چلنے والی گاڑیوں کی نگرانی اور چیکنگ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی مقدار، فراہمی اور خرچ کے ریکارڈ کی باقاعدگی سے جانچ، ڈیزل کی مبینہ خردبرد کی روک تھام اور گاڑیوں کے فیول استعمال کی مؤثر مانیٹرنگ کیلئے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے اس امر کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ مختلف گاڑیوں کو جاری کیے جانے والے ڈیزل اور ان کی عملی کارکردگی میں کوئی فرق تو موجود نہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا کہ اگر ایک گاڑی کے ڈیزل میں چھ ماہ تک مبینہ بے ضابطگی جاری رہ سکتی ہے تو دیگر گاڑیوں اور مختلف پوائنٹس پر ایندھن کے استعمال کا بھی شفاف آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔ شہریوں کے مطابق ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کیلئے ہر ماہ ایندھن پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے ، اس لئے ڈیزل کی مبینہ خردبرد کا معاملہ مالی اور انتظامی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا تقاضا کرتا ہے ۔ انتظامیہ کی جانب سے نگرانی سخت کیے جانے سے توقع ہے کہ مستقبل میں ایندھن سمیت دیگر سرکاری وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments