اتائیوں سے جرمانے لینے کیلئے سخت ایکشن کا حکم
واجب الادا جرمانے اب زمین کے ریونیو واجبات کی طرح وصول کیے جائیں گے ، اور مجموعی وصولی کا دو فیصد کمیشن بھی ضلعی انتظامیہ کو ملے گافہرستوں نے ضلع میں اتائیت کے خلاف کارروائیوں اور جرمانوں کی عدم ادائیگی کی سنگینی واضح کردی ، کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی تعداد 109 ہوگئی
سرگودھا(نعیم فیصل سے )عوام کی صحت سے کھیلنے کے بعد اتائیوں نے بھاری جرمانے بھی دبا لیے ، جس پر پنجاب ہیلتھ کیٔر کمیشن نے 109 اتائیوں کے خلاف شکنجہ تیار کرتے ہوئے کارروائیوں کے بعد بھی جرمانے ادا نہ کرنے پر ضلعی انتظامیہ کو سخت ایکشن لینے کا حکم دے دیا،اور کمیشن نے واضح کردیا کہ واجب الادا جرمانے اب زمین کے ریونیو واجبات کی طرح وصول کیے جائیں گے ، اور مجموعی وصولی کا دو فیصد کمیشن بھی ضلعی انتظامیہ کو ملے گا، ذرائع کے مطابق پنجاب ہیلتھ کیٔر کمیشن کی جانب سے ضلعی افسران کو بھجوائی فہرستوں نے ضلع میں اتائیت کے خلاف کارروائیوں اور جرمانوں کی عدم ادائیگی کی سنگینی واضح کردی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں 94 اتائیوں کے کیسز جرمانوں کی وصولی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو بھجوائے گئے تھے ، جبکہ مزید 15 کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی تعداد 109 ہوگئی ہے ۔
کمیشن کے مطابق ان اتائیوں پر پنجاب ہیلتھ کیٔر کمیشن کی جانب سے لگ بھگ سوا کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے تھے لیکن کم از کم تین تین مرتبہ نوٹس اور یاددہانیوں کے باوجود جرمانوں کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اب پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت ان واجب الادا جرمانوں کی وصولی کے لیے ضروری کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی گئی ہے ، یعنی جرمانے محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں لینڈ ریونیو کے بقایا جات کے طور پر وصول کیا جائے گا۔ اتائیوں کے تفصیلی فیصلے ، تین نوٹس اور متعلقہ ریکارڈ بھی ضلعی انتظامیہ کو فراہم کیا گیا ہے تاکہ وصولی کا عمل آگے بڑھایا جاسکے ۔
پنجاب ہیلتھ کیٔر کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ وصول ہونے والی رقم کمیشن کے مقررہ اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے جبکہ قانون کے مطابق 2 فیصد کمیشن بطور ریکوری چارجز منہا کیا جاسکتا ہے ، کمیشن نے مزیدواضح کیا ہے کہ اتائیت کے خاتمے کے لیے جرمانوں کی وصولی اور مؤثر کارروائی ضروری ہے تاکہ ضلع میں شہریوں کی صحت کو غیر مستند اور غیر قانونی طبی پریکٹس سے تحفظ فراہم کیا جاسکے ۔ یوں 109 اتائیوں کے خلاف جرمانوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ اب ضلعی انتظامیہ کے ذریعے باقاعدہ ریکوری کارروائی کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments