کے فورمنصوبہ 2027 میں مکمل ہو گا، پارلیمانی سیکریٹری بلدیات

 کے فورمنصوبہ 2027 میں  مکمل ہو گا، پارلیمانی سیکریٹری بلدیات

سال 2022سے 2025کے دوران کراچی میں 11انڈر پاسز تعمیر کیے جا چکے ، دو زیر تعمیر ہیں،قاسم سراج سومرو ستونوں میں اضافے کے باعث کورنگی کازوے منصوبے کی لاگت بڑھی، ڈیفنس میں دو انڈر پاس زیر تجویز ،اسمبلی میں بیان

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پارلیمانی سکریٹری بلدیات قاسم سراج سومرو نے سندھ اسمبلی کو بتایا ہے کہ کہ 2022 سے 2025 کے دوران کراچی میں 11 انڈر پاسز تعمیر کیے جا چکے ہیں جبکہ دو انڈر پاسز زیر تعمیر ہیں۔ سب میرین چورنگی اور جوہر چورنگی انڈر پاس مکمل ہو چکے ہیں۔ کریم آباد اور منور چورنگی انڈر پاس رواں سال مکمل کیے جائیں گے ۔ کورنگی کازوے کا منصوبہ جنوری 2026 میں 6 ارب 13 کروڑ 51 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔ ستونوں میں اضافے کے باعث اس کی لاگت بڑھی۔وہ جمعہ کو سندھ اسمبلی میں محکمہ بلدیات سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کی جانب سے پوچھے جانے والے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دے رہے تھے ۔سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ وقفہ سوالات کے دوران قاسم سراج سومرو کاکہنا تھا کہ ہمارے بہت سارے پروجیکٹس کی بڈنگ میں چینی کمپنیاں حصہ لیتی ہیں تاہم ہماری ترجیح ہوتی ہے کہ مقامی کمپنی کو ٹھیکہ دیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کے فور کا منصوبہ 2027 میں مکمل ہوگا۔ کراچی واٹر کارپوریشن کی جانب سے حب ڈیم کو مختلف اوقات میں صاف کیا جاتا ہے تاکہ شہریوں کو صاف پانی ملے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمر شریف انڈر پاس پر پانی کے اخراج کا میکانزم ہونا چاہئے تھا مگر یہ ڈیزائن کے وقت نہیں ہوسکا ۔انہوں نے بتایا کہ ڈیفنس میں دو انڈر پاس زیر تجویز ہیں۔ جن میں ایک سعودی قونصل خانہ کے قریب ہے تاہم کنسلٹنٹ ان دو انڈر پاسز پر راضی نہیں ہیں۔۔ ایم کیو ایم کی رکن مسرت جبین نے پانی کی فراہمی کا مسئلہ اٹھایا جس پر پارلیمانی سیکریٹری نے متعلقہ افسران کو رابطے کی ہدایت کی۔ایم کیو ایم کی رکن فوزیہ حمید نے گاڑیوں میں تیز بیم والی ایل ای ڈی لائٹس کے استعمال پر توجہ دلاؤنوٹس پیش کیا۔ وزیر داخلہ ضیائالحسن لنجار نے تسلیم کیا کہ یہ مسئلہ پورے سندھ میں ہے اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ایم کیو ایم کے عامر صدیقی کراچی میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ پر اپنی تحریک التوا پیش کرنا چاہتے تھے ۔ان کا موقف تھا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے اس کا حل نکالیں۔ وزیر داخلہ ضیا لنجار کی اس یقین دہانی پر کہ وہ اس معاملے کا جلد کوئی حل نکالیں گے محرک نے اپنی تحریک پیش نہیں کی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...