فاختہ، جنگلی کبوتر، تلیٔراور تیتر سمیت جنگلی پرندوں کی بقا خطرے میں
پابندی کے باوجود شکاری سرگرم ، بچے پکڑنے کا سلسلہ بھی افزائش کو متاثر کر رہا ریجن میں لگ بھگ 200 شوٹنگ لائسنس ہولڈرز ،محکمہ کے پاس محدود نفری کالے تیتر کو جال لگا کر پکڑنے سے اس کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جانے کا خدشہ
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا سمیت پورے ریجن میں غیر قانونی شکار کا سلسلہ نہ رک سکا، محکمہ وائلڈ لائف کی مبینہ غفلت اور عملے کی شدید کمی کے باعث فاختہ، جنگلی کبوتر، تلیٔر، ہریل، چڑیاں، طوطے اور تیتر سمیت جنگلی پرندوں کی بقا خطرے میں پڑ گئی۔ ذرائع کے مطابق کئی اقسام کے پرندوں کے شکار پر پابندی کے باوجود شکاری سرگرم ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں بریڈنگ سیزن کے دوران تیتر کے انڈے اور کم عمر بچے پکڑنے کا سلسلہ بھی اس خوبصورت جنگلی حیات کی افزائش کو بری طرح متاثر کر رہا ہے ۔ ریجن میں لگ بھگ 200 شوٹنگ لائسنس ہولڈرز موجود ہیں، تاہم غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے محکمہ کے پاس محدود نفری ہے ، جس کے باعث وسیع دیہی علاقوں میں مؤثر نگرانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ کے آغاز سے تیتر کے شکار کا سیزن شروع ہونے جا رہا ہے ، لیکن اس سے پہلے ہی تیتر کی نسل کو انڈے اور بچے پکڑنے کے ذریعے نقصان پہنچایا جا رہا ہے ، جبکہ کالے تیتر کو جال لگا کر پکڑنے اور شکار کرنے سے اس کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ فاختہ، جنگلی کبوتر اور تلیٔر جیسے پرندوں کے شکار پر مکمل پابندی کے باوجود ان کی تعداد میں کمی جنگلی حیات کے تحفظ کے نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنی ہو ئی ہے ،جنگلات اور کھیتوں میں پرندوں کی چہچہاہٹ سے قدرتی ماحول کی رونق برقرار رہتی ہے ، مگر بے دریغ شکار اور افزائش نسل کے دوران ان کے انڈوں اور بچوں کو پکڑنے سے قدرتی توازن بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments