چمن :مدرسے کے استاد کا مبینہ تشدد ، 7سالہ بچی کی آنکھ ضائع

چمن :مدرسے کے استاد کا مبینہ تشدد ، 7سالہ بچی کی آنکھ ضائع

بروقت علاج نہ ہونے سے انفیکشن پر ملالہ کی آنکھ آپریشن سے نکال دی گئی ملزم فرار، مقدمہ درج نہ ہوسکا ،لواحقین کارروائی سے انکاری ہیں ، پولیس

کوئٹہ( آئی این پی )بلوچستان کے ضلع چمن میں مدرسے کے استاد کے مبینہ تشدد کے باعث سات سالہ بچی کی ایک آنکھ کی بینائی مکمل طور پر ضائع ہو گئی۔ کوئٹہ کے گورنمنٹ ہیلپر آئی ہاسپٹل میں ڈاکٹروں نے آپریشن کر کے اس کی متاثرہ آنکھ نکال دی ہے ۔ واقعہ چمن کے علاقے گلدار باغیچہ کے رہائشی عبدالمحمد کی سات سالہ بیٹی ملالہ کے ساتھ تقریبا ً ڈیڑھ ماہ قبل پیش آیا تھا تاہم یہ معاملہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد عام لوگوں کے علم میں  آیا۔ بچی کے ماموں دوست محمد نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کوبتایا کہ ملالہ اپنے گھر کے قریب مدرسے میں پڑھتی تھی جہاں سبق یاد نہ ہونے پر استاد نے اسے تھپڑ مارا۔ ان کے بقول اس دوران بچی گر کر ٹیبل کے کونے سے ٹکرا گئی جس سے اس کی آنکھ پر چوٹ آئی۔دوست محمد نے بتایا کہ بچی کے والد دیہاڑی دار مزدور ہیں اور واقعے کے بعد مولوی نے انہیں علاج کے لیے دس ہزار روپے دئیے تھے ۔ والد نے ابتدا میں بچی کو گا ئوں کے مقامی کلینک اور بعد میں چمن بازار میں دکھایا لیکن رقم ختم ہونے پر علاج جاری نہ رکھ سکے ۔سوشل میڈیا پر معاملہ وائرل ہونے کے بعد چمن کی مقامی انتظامیہ نے متعلقہ مدرسے کو سیل کر دیا تاہم کیس سے متعلق اب تک کوئی باقاعدہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے ۔ ایس ایچ او چمن کاریزات عبدالجبار نے بتایا کہ انتظامیہ کی ہدایت پرمدرسے کو سیل کیا گیا لیکن بچی کے والد نے قانونی کارروائی اور مقدمہ درج کرانے سے انکار کر دیا ہے ۔پولیس کے مطابق ملزم واقعے کے بعد سے فرار ہے تاہم راضی نامے اور والد کی مدعیت نہ ہونے کی وجہ سے قانونی پیش رفت رک گئی ہے اور مدرسہ بھی جمعے کو دوبارہ کھول دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...