
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق یہ مطالبہ تحریری طور پر کیا گیا ہے. اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے قریبی ساتھی قرار دیئے جانے والے قاری سیف اللہ کو امریکہ نے حال ہی میں بین الاقوامی دہشتگرد قرار دیا تھا۔ انہوں نے حرکتہ جہاد اسلامی نامی تنظیم قائم کی اور کشمیر ،افغانستان اور تاجکستان میں جہادی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ ان پر 1995 میں فوجی بغاوت کیس، 2007 میں سانحہ کارساز کیس، 2008 میں بے نظیر قتل کیس میں ملوث ہونے کا الزام لگا۔ بے نظیر قتل کے بعد قاری سیف اللہ کو پیر نفیس شاہ کی خانقاہ سے 2008 میں گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق قاری سیف اللہ کو قطر سے 50 ہزار ڈالر اور بحرین سے 2 ہزار ڈالر امداد ملی جبکہ فوجی بغاوت کیس میں بریگیڈئیر مستنصر بلا نے قاری سیف اللہ کو 7 لاکھ اسلحہ خریدنے کے لیئے دیئے جس کے بعد انہوں نے درہ آدم خیل سے راکٹ لانچر ، کلاشنکوفیں اور پستول خریدے جبکہ کمانڈوز کی وردی انہوں نے راولپنڈی صدر سے خریدی۔ انہوں نے اس سلسلے میں بریگیڈئیر مستنصر بلا سے دو ملاقاتیں کیں۔ پہلی ملاقات اپریل 1995 جبکہ دوسری اسی سال جولائی میں ہوئی۔ ذرائع کے مطابق قاری سیف اللہ ان دنوں شمالی وزیرستان میں ہیں اور بظاہر جہادی سرگرمیوں سے لاتعلق ہو چکے ہیں۔ واضح رہے امریکی محکمہ خارجہ نے ان کو ایک آپریشنل کمانڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مشرقی صوبے زابل میں افغان حکومت اور اتحادی فوجی کے خلاف شدت پسند سرگرمیوں میں طالبان جنگجوؤں کا استعمال کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ قاری سیف اللہ ماضی میں صوبے زابل میں حکومت کے خلاف دیسی ساختہ بم حملوں، فائرنگ اور راکٹ حملوں کا براہ راست حکم دیتے رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق گزشتہ سال 14 جنوری کو قاری سیف اللہ کے ماتحت کام کرنے والے چھ طالبان باغیوں نے عبدالحق کے گاؤں کے قریب رومانیہ کے ایک فوجی قافلے پر راکٹوں اور دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔ اس سے قبل 28 ستمبر 2011ء کو قاری سیف اللہ کی ہدایت پر دو خودکش حملہ آوروں نے زابل کے اضلاع قلات اور شجوے میں امریکی قیادت میں کام کرنے والی ایک صوبائی ترقیاتی ٹیم پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اسی طرح 25 نومبر 2010ء میں قاری سیف اللہ نے ایک طالبان کمانڈر اور اور زابل کے ضلع اتغر میں طالبان کے حمایتی نائب گورنر کو قلات شہر میں ہیتھاروں کی ترسیل کا حکم دیا تھا۔ اس گھیپ میں تقریباً 25 کلاشنکوف رائفلیں، 10 مشین گنز، پانچ آر پی جی اور 20 دستی بم شامل تھے جو کو خودکش حملہ آوروں اتحادی فوج اور افغان نیشنل فورسز کے خلاف استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں سیکنڈ افغان آرمی بریگیڈ اور پولیس ہیڈکوارٹر اہم نشانہ تھے۔ رپورٹ: حسن ایوب
سے اہم مضامین پڑھیئے