جنگ کے باوجود پاک ایران تجارت جاری، 2 ماہ میں 2330 ٹرک تہران گئے
اسلام آباد: (ذیشان یوسفزئی) ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت جاری رہی، جون اور جولائی 2026 کے دوران پاکستان سے 2330 ٹرک ایران گئے۔
روزنامہ دنیا کو دستیاب وزارت تجارت کی دستاویزات کے مطابق جون اور جولائی کے دوران تقریباً 1209 ٹرک چاول کی برآمدات لے کر گبد بارڈر کے راستے ایران گئے جبکہ تقریبا 1121 ٹرک آم کی برآمدات لے کر تفتان بارڈر کے ذریعے ایران روانہ ہوئے۔
ایران کو چاول کی برآمدات زیادہ تر گبد جبکہ آم کی برآمدات تفتان بارڈر کراسنگ کے ذریعے کی گئیں۔
وزارت تجارت کے مطابق پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بڑھانے اور وسطی ایران کوریڈور کو فعال بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے اس کوریڈور کے ذریعے درآمدات کیلئے مالیاتی آلے کی شرط سے بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
خوراک، ادویات اور خیموں سمیت بعض اشیاء کی ایران کو برآمدات جبکہ ایران کے زمینی راستے سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور آذربائیجان کو چاول کی برآمدات کو تین ماہ کیلئے مالیاتی آلے کی شرط سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں اور آذربائیجان سے تجارت بڑھائی جا سکتی ہے تاہم بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال اس راہ میں بڑا چیلنج ہے، کوئٹہ سے تفتان تک سکیورٹی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور ایف سی کے قافلوں میں نقل و حرکت کے باوجود کارگو گاڑیوں پر حملے ایک اہم مسئلہ ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments