ملکی مسائل کا حل مزید چھوٹے صوبے بنانے کے علاوہ کوئی نہیں: میاں عامر محمود

اسلام آباد:(دنیا نیوز) چیئرمین پی بی اے میاں عامرمحمود نے کہا ہے کہ ملکی مسائل کا حل چھوٹے صوبے بنانے کے علاوہ اورکوئی نہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں ڈیولوشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ کے لیے قوانین بنائے گئے، 182 ممالک پنچاب سے چھوٹے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم اپنےبچوں کوصحیح خوراک بھی نہیں دے پارہے، 44فیصد بچےغذائی قلت کا شکارہے،ڈھائی کروڑبچے سکولوں سے باہر ہے، پنجاب 13کروڑ آبادی کا صوبہ ہے، دنیا کے 55 ممالک ایسے ہے جو سندھ سے چھوٹے ہیں۔

چیئرمین پی بی اے کا کہنا تھا کہ میں یونیورسٹی میں کئی بار گیا ہوں، میں پہلی بار قانون سازوں کے سامنے آیا ہوں، آئین ہی آپ کو حکمران بناتا ہے، ہمارے بزرگوں کا علاج، بچوں کی تعلیم آپ کے قانون کے مطابق ہے، قانون آپ بناتے ہیں ہم اس کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ آرٹیکل 140اے معروف آرٹیکل ہے، پنجاب اسمبلی نے 2001سے اب تک اس آرٹیکل پر 6 بار قانون سازی کی، ساٹھ ہزار سکولوں کو لاہور میں بیٹھ کر چلانا چاہتے ہیں، 2019 میں اس لئے قانون بنایا گیا کہ چلتے ہوئے نظام کو ختم کیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم ہنگر انڈیکس میں 109آؤٹ آف 127 نمبر پر ہیں، 44فیصد بچے سٹینڈڈ گروتھ کے ہیں، 25ملین بچے آؤٹ آف سکول بچے ہیں دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں، چار صوبے ایک مرکز ہیں، سیاست میں آگے جانے کے دو راستے ہیں اس کے علاوہ کوئی ٹیلنٹڈ آگے نہیں جا سکتا۔

چیئرمین پی بی اے نے کہا کہ چھوٹے صوبے بنانے کے علاوہ اورکوئی حل نہیں ہے،بھارت جب آزاد ہوا تواس کے 9 صوبے تھے،آج بھارت کے 39 صوبے ہو گئے ہیں۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ جتنا بڑا صوبہ ہوتا ہے وہاں لوگوں کی شکایات بھی زیادہ ہوتی ہیں، نئے صوبے بننے سے لوگوں کے مسائل بھی حل ہوں گے، صرف قانون میں لکھنے سے لوکل گورنمنٹ بااختیار نہیں ہوگی، ایسی لیڈرشپ چاہئیں جو لوگوں کے مسائل حل کرے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بہت سے ادارے ایسے ہیں جن کا بجٹ صرف اتنا ہوتا ہے کہ اُن کی تنخواہ دی جا سکے، وہ کام کر نہیں سکتے جس کے لیے اُن کو بنایا گیا ہے، بیت المال کیلئے 183.19ملین کا بجٹ دیا ہے، ویلفیئر کے لیے 6لاکھ روپے خرچ ہوئے باقی تنخواہیں۔

چیئرمین پی بی اے نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ پر بہت بات ہوئی ہے، 2001 میں لوکل گورنمنٹ میں 78 ترامیم کیں جس کا مقصد ناطم کو ختم کرنا تھا، کہا جاتا ہےاگر ہم صوبے چھوٹے کریں گے تو ایڈمنسٹریٹو ایکسپنس بڑھ جائے گا، ایسا نہیں ہے ایکسپنس کم ہو گا، عوام کی ویلفیئر سکیورٹی سے براہ راست لنک ہے۔

میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ منسٹری آف ایجوکیشن کے سروے کے مطابق تعلیم کے معیار میں ویری ہائی لیول میں ڈسٹرکٹ نہیں ہیں، ہائی لیول میں صرف اسلام آباد آتا ہے، میڈیم میں 56 اضلاع شامل ہیں، باقی تعلیمی معیار کے لحاظ سے لو لیول پر آتے ہیں۔

چیئرمین پی بی اے نے مزید کہا کہ ایک سروے کے مطابق 46 فیصد بچے کلاس 5 میں ہیں جو کلاس 2 کی کتاب نہیں پڑھ سکتے،80 سال سے اچھی لوکل گورنمنٹ کے انتظار میں ہیں جو نہیں بن سکی، ہمارے ہاں ادارے ویک ہیں اور انڈویژلز زیادہ پاور فل ہیں، صوبے کی بنیاد پر جی ڈی پی کلکیولیٹ ہی نہیں ہوتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں