لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تمام 60 منظور شدہ آسامیاں پُر کرنے کا عمل شروع
لاہور: (محمد اشفاق) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے عدالت عالیہ میں ججز کی تمام منظور شدہ 60 آسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے خالی 18 آسامیوں پر تقرری کے لیے باقاعدہ پراسیس شروع کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی منظور شدہ آسامیوں کی تعداد 60 ہے تاہم یہ تعداد ماضی میں کبھی مکمل نہیں ہو سکی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے فیصلہ کیا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہر صورت تمام 60 آسامیوں کو مکمل کیا جائے گا تاکہ زیر التوا مقدمات کو بروقت نمٹایا جا سکے۔
اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سمیت 42 ججز فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ 18 آسامیاں خالی ہیں، ججز کی کمی کے باعث کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور موجود ججز پر کام کا دباؤ بھی بڑھ چکا ہے، وکلا تنظیمیں بھی طویل عرصے سے ججز کی خالی آسامیاں پر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں کیونکہ یہ صورتحال بروقت انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے شفاف اور باقاعدہ طریقہ کار کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت نامور، قابل اور صاف کردار کے حامل وکلا کے نام زیر غور ہیں، فہرست میں قابل اور دیانتدار سرکاری وکلا بھی شامل ہیں۔
پہلے مرحلے میں وکلا کا ریکارڈ منگوایا جا رہا ہے، بعد ازاں شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کے انٹرویوز ہوں گے، چیف جسٹس اور کمیشن کے دیگر ممبران منتخب نام چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو ارسال کریں گے۔
ذرائع کے مطابق تقرری کا یہ عمل ایک سے دو ماہ میں مکمل ہونے کا امکان ہے، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے چیف جسٹس کے اس اقدام کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وکلا کا دیرینہ مطالبہ تھا، انہوں نے شفاف کردار کے حامل وکلا کو ترجیح دینے کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔
سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار فرخ الیاس چیمہ نے کہا کہ ججز کی خالی آسامیوں پر تقرریوں سے بروقت انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور پہلی مرتبہ ججز کی منظور شدہ تعداد 60 پوری ہونا خوش آئند پیش رفت ہے۔