ضلعی عدلیہ کی تاریخ میں بڑا سنگ میل، سال میں 38 لاکھ80 ہزار مقدمات کے فیصلے
لاہور: (محمد اشفاق) پنجاب کی ضلعی عدلیہ کی تاریخ میں بڑا سنگ میل، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کی شاندار پالیسیز کے باعث سال 2025 میں پنجاب کی ماتحت عدالتوں نے 38 لاکھ80 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے اور زیر التوا مقدمات میں 56ہزار کیسز کی واضح کمی آئی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی بہترین لیڈرشپ، قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی جانب سے جاری ٹائم لائنز، موثرکیس مینجمنٹ اور جدید اصلاحات کی بدولت صوبہ پنجاب کی ضلعی عدلیہ کی جانب سے شاندارعدالتی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔
سال 2025 کے دوران صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں 38 لاکھ 80ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کئے گئے جوکہ تاریخی اعتبار سے ایک بڑا سنگ میل ہے۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے عدالتی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ عدالتی نظام میں شفافیت اور بروقت انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے، عدالتی نظام میں جدید اصلاحات کے نفاذ اور آٹو میشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کی بدولت مقدمات کے فیصلوں کی رفتار میں اضافہ ہواہے۔
اعدادو شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران صوبہ پنجاب کی تمام سول عدالتوں میں 29 لاکھ11 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کئے گئے جبکہ اسی عرصہ کے دوران سول عدالتوں میں 28 لاکھ 57 ہزار538 نئے مقدمات بھی دائر کئے گئے، اسی طرح گزشتہ سال کے دوران صوبہ بھر کی سیشن عدالتوں میں 9 لاکھ69 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے ہوئے اور 9 لاکھ 38 ہزار854 نئے مقدمات بھی دائر کئے گئے۔
مزید برآں صوبہ بھر کی سول و سیشن عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہو کر 14 لاکھ42 ہزاررہ گئی، جسکی وجہ سے سابقہ مقدمات کی تعداد میں 56 ہزار 58 کی کمی واقع ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی جانب سے جاری ہدایات کی روشنی میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کے اقدامات کی بدولت صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں ٹائم لائنز پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا۔
صوبہ بھر کے وکلاء و سائلین نے ضلعی عدلیہ کی جانب سے ریکارڈ عدالتی فیصلوں کو خوش آئند اور اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی ہدایات پر نافذ کردہ کیس مینجمنٹ اور ڈیجیٹل اصلاحات کی بدولت مقدمات کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔