روس امریکہ میں منجمد ایک ارب ڈالر کے اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ خود کرے گا
ماسکو: (شاہد گھمن) روسی صدارتی انتظامیہ کے نائب سربراہ میکسم اوریشکن نے کہا ہے کہ امریکہ میں منجمد ایک ارب ڈالر کے روسی اثاثے روس ہی کی ملکیت ہیں اور اگر یہ اثاثے بحال ہوتے ہیں تو ماسکو خود اس رقم کے استعمال کا طریقہ طے کرے گا۔
روسی صحافی پاویل زاروبین سے گفتگو میں اوریشکن نے صدر ولادیمر پیوٹن کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ارب ڈالر روس کے ہیں اور ہم خود اس کے استعمال کے لیے ہدایات دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی منتقلی کا عمل اس وقت ممکن ہوگا جب امریکی بینک جو فی الحال روسی احکامات پر عمل کرنے سے روکے گئے ہیں انہیں اجرا کریں۔ ان کے بقول اگر امریکی بینک روس کے احکامات پر عمل کریں تو معاملہ آگے بڑھ جائے گا۔ بات اتنی ہی سادہ ہے۔
یاد رہے کہ صدر پیوٹن نے حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ روس فلسطینی عوام کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے مختص کرنے کے لیے تیار ہے، یہ معاملہ امریکی وفد کے ساتھ 22 جنوری کو کریملن میں ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آیا۔