گاڑی کی ٹکر سے رینجرز اہلکاروں کو کچلنے کے کیس میں بڑی پیش رفت

اسلام آباد: (دنیا نیوز) گاڑی کی ٹکر سے رینجرز اہلکاروں کو کچلنے کے کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرداری پر گاڑی اصل مالک سفینہ ظفیر عباسی کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے رینجرز اہلکاروں کو کچلنے والی گاڑی سپرداری پر دینے کی خاتون مالکن کی درخواست منظور کر لی، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے فیصلہ سنایا۔

فیصلے کے مطابق مقدمے کی تفتیش مکمل ہوچکی ہے، گاڑی مزید شواہد کے لیے درکار نہیں، مقدمے میں نامزد ملزم پہلے ہی ضمانت پر رہا ہوچکا ہے۔

عدالت کے مطابق گاڑی کی مالکن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹرائل کورٹ کو جب ضرورت ہوئی تو گاڑی پیش کردوں گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو پانچ لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے اور حتمی فیصلے تک گاڑی فروخت نہ کرنے اور موجودہ حالت میں برقرار رکھنے کا بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے ضرورت کے وقت گاڑی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق گاڑی ان کے نام پر ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق انکا پوتا بغیر اجازت گاڑی لے گیا، پوتا ذہنی طور پر بھی تندرست نہیں۔

یاد رہے کہ نومبر 2024 میں رینجرز اہلکاروں کو کچلنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں