جسٹس کمیٹی برائے آئی سی ٹی کا اجلاس، ماڈل جیل 30 جون تک مکمل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: (رضوان قاضی) جسٹس کمیٹی برائے آئی سی ٹی نے ماڈل جیل 30 جون تک مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

اسلام آباد کے لئے جسٹس کمیٹی کا اجلاس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر کی صدارت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں منعقد ہوا، جس میں وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری، وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری، چیف کمشنر اسلام آباد آئی جی پولیس اسلام آباد نے شرکت کی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد، ڈپٹی اٹارنی جنرل، ڈسٹرکٹ و سیشن ججز، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی نیشنل فارانزک ایجنسی، ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن، فیڈرل پراسیکیوٹر جنرل اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں اسلام آباد ماڈل جیل کے تعمیراتی منصوبے سے متعلق امور اور پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل کی تاریخ 30 جون 2026 ہے، ماڈل جیل کا تعمیراتی کام آخری مرحلے میں ہے، جس میں 85 فی صد کام مکمل ہو چکا ہے اور 15 فیصد مالی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ماڈل جیل آئی سی ٹی کے مکمل ہونے کا کام بلا تاخیر مکمل کیا جانا چاہئے اور اسے 30 جون 2026 تک مکمل ہونا چاہیے، انہوں نے دیگر امور پر بھی روشنی ڈالی جیسے جیل کے عملے کی تعیناتی بھی بیک وقت مکمل کی جائے تاکہ اسلام آباد کے قیدیوں کی منتقلی 1 جولائی 2026 سے شروع کی جا سکے۔

چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ وزارت داخلہ کے سیکرٹری وزارت خزانہ کے سیکرٹری کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ ماڈل جیل کی تعمیر سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں، اگلے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کو مدعو کیا جائے گا۔

"نیشنل پرزن ریفارم ایکشن پلان" کی رپورٹ، جو جیل ریفارم سب کمیٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی پر بھی غور کیا گیا اور اسے جیل انتظامیہ کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم فریم ورک کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

چیف جسٹس نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے، خاص طور پر چوری، حادثات اور عصمت دری کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ عصمت دری کے کیسز میں، فوجداری ثبوت کے لیے فارنزک لیبارٹری کی رپورٹ حاصل کی جانی چاہیے تاکہ اصل مجرم سزا سے بچ نہ سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ مجرموں کی مناسب تحقیقات کی جائیں تاکہ جرائم کی شرح کم ہو سکے، تفتیشی افسران کی تربیت بھی ضروری ہے تاکہ تمام ممکنہ فوجداری شواہد جمع کیے جا سکیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتوں کے ججز پر زور دیا جائے کہ وہ مقدمات جلد از جلد فیصلے کریں تاکہ عوام کے شکایات کا بروقت ازالہ ہو سکے۔

اجلاس میں سیف سٹی نگرانی کے نظام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ آئی سی ٹی کے تقریباً 35 فیصد حساس علاقوں کو سی سی ٹی وی نگرانی کے ذریعے کور کیا گیا ہے، جس میں ریڈ زونز، ہائی ویز اور حساس مقامات شامل ہیں۔

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 19692 افراد اور 15779 گاڑیاں چیک کی جا چکی ہیں، جس سے 17 چوری شدہ گاڑیوں کی واپسی اور 15 مفرور مجرموں کی شناخت ممکن ہوئی، نگرانی اور جرائم کی نشاندہی کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے اے آئی سے مربوط نگرانی کیمروں کی تنصیب جاری ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کو اسلام آباد کے دیگر علاقوں، جیسے ریڈ زون، میں بھی تعینات کیا جانا چاہئے، اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس، فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس اور ججز کی رہائش گاہوں کی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے اور مضبوط کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جو اسلام آباد پولیس اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے قانون کے مطابق ہونے چاہئیں۔

عدالتوں اور ججز کی رہائش گاہوں میں سکیورٹی کے اقدامات کی مسلسل نگرانی اور باقاعدہ جائزہ آئی سی ٹی انتظامیہ اور آئی سی ٹی پولیس کی ذمہ داری ہے، چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کی اس حکمت عملی کی بھی تعریف کی جس سے جی-11، اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس میں خودکش بمبار کے داخلے کو روکا گیا۔

چیف جسٹس نے ہنگامی اخراج کے مزید دروازے بنانے اور جوڈیشل کمپلیکس میں الارم سسٹم نصب کرنے کی ہدایت دی تاکہ ہنگامی حالات میں یہ نظام کام کر سکے اور اخراج کے راستے الارم سسٹم سے مربوط ہوں۔

آئی سی ٹی میں پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی اور چالان جمع کرانے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، چالان کو مناسب جانچ کے بعد بروقت جمع کرایا جانا چاہئے، وفاقی پراسیکیوٹر جنرل نے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی،جس پر چیف جسٹس نے متعلقہ وزارت سے کہا کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں