الیکشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں
اسلام آباد: (دنیا نیوز) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ریگولیشنز کا اطلاق الیکشن کمیشن کے تمام مرکزی و صوبائی دفاتر پر ہوگا، سیکرٹریٹ میں چیف انفارمیشن افسر اور صوبوں میں پبلک انفارمیشن افسر تعینات ہوگا۔
ہر شہری معلومات کے حصول کیلئے درخواست جمع کرا سکے گا، درخواست پر فیصلہ 14 ورکنگ دنوں میں کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق معلومات کی فراہمی پر فی صفحہ 10 روپے فیس مقرر کی گئی ہے، معلومات نہ ملنے پر 14 روز میں چیف الیکشن کمشنر کو اپیل کا حق ہوگا۔
الیکشن کمیشن کا ریکارڈ کلاسیفائیڈ اور نان کلاسیفائیڈ کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا، کلاسیفائیڈ ریکارڈ اجازت کے بغیر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔
کلاسیفائیڈ ریکارڈ تک غیر مجاز رسائی یا نقل پر قانونی و محکمانہ کارروائی ہوگی، حلقہ بندی کمیٹیوں کی تقرری سے متعلق ریکارڈ کلاسیفائیڈ ہوگا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی فہرستوں کے سپروائزرز، تصدیق افسران اور ڈسپلے سینٹر انچارج، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے متعلق دستاویزات کلاسیفائیڈ ہوں گی۔
ٹرینرز اور ٹریننگ حاصل کرنے والوں کا ڈیٹا بھی کلاسیفائیڈ قرار دیدیا گیا، ڈی ایم اوز اور مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹس کلاسیفائیڈ ہوں گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صنفی و سماجی شمولیت کے منصوبوں کی معلومات کلاسیفائیڈ، ملازمین کی ہائرنگ، سرکاری و رہائشی الاٹمنٹ سے متعلق امور کلاسیفائیڈ قرار دے دیئے گئے۔
گاڑیوں کی خرید و رجسٹریشن کا ریکارڈ بھی کلاسیفائیڈ ہوگا، فائل نوٹس، خط و کتابت اور منظوری کے مسودے کلاسیفائیڈ ہوں گے، اتھارٹی کسی بھی دستاویز کو کلاسیفائیڈ قرار دے سکتی ہے۔