بنگلہ دیش انتخابات: ابتدائی نتائج میں بی این پی کی 65 نشستوں پر برتری

ڈھاکہ: (دنیا نیوز) بنگلہ دیش کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے جس کے مطابق بی ایم پی کو واضح برتری حاصل ہے۔

بنگلادیشی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ابتدائی طور پر 65 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی اب تک 20 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے، اس کے علاوہ اب تک کے نتائج کے مطابق نیشنل سیٹیز پارٹی (این سی پی) 2 نشستیں حاصل کر سکی ہے۔

ابتدائی نتائج میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی کارکردگی کے بارے میں ابھی مکمل معلومات سامنے نہیں آئیں اور مزید حتمی نتائج آنے میں وقت لگ سکتا ہے، انتخابات کے دوران ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور عمل عام طور پر پرامن رہا۔

بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر سے منسلک آئینی اصلاحات پر قومی ریفرنڈم کے لیے ملک بھر میں ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا اور اب گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محمد یونس کا بنگلادیش میں پرامن انتخابات کے انعقاد پر قوم سے اظہار تشکر

ووٹنگ کا آغاز جمعرات کو صبح 7:30 بجے ہوا، دن کے آغاز میں کچھ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، جس سے عوام کے انتخابی جوش و خروش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، دارالحکومت ڈھاکہ کے کئی پولنگ مراکز پر ووٹنگ کا عمل زیادہ تر پُرامن دیکھا جارہا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق ملک بھر کے 36,000 سے زائد پولنگ مراکز میں تقریباً 48 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔۔

شیرپور-3 کی نشست پر ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ منسوخ ہونے کے بعد 300 میں سے 299 حلقوں میں رائے دہی ہوئی، تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ اہل ووٹرز آج بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کر رہے ہیں۔

ان عام انتخابات کو اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کی جمہوریت کی بحالی کا ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات کی نگرانی کیلئے 55 ہزار سے زیادہ مبصرین سرگرم

بنگلہ دیش عام انتخابات 2026 میں مقابلہ براہِ راست بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں انتخابی اتحاد اور جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 11 جماعتوں کے اتحاد کے درمیان ہے، جماعت اسلامی کے اتحادیوں میں نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے، جسے ان نوجوان کارکنوں نے تشکیل دیا تھا جنہوں نے شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈھاکا: جعلی ووٹ کاسٹ کرنے پر نوجوان کو 2 سال قید کی سزا

سروے کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کی زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کسی پارٹی کی واضح برتری سامنے آئے کیونکہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف چلنے والی احتجاجی لہر کے اثرات سے ملک ابھی تک پوری نہیں نکل پایا ہے اور اس کا اثر ملک کی معیشت اور انڈسٹری پر بھی پڑا جس میں گارمنٹس کی صنعت بھی شامل ہے جس کے لیے اسے دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ سمجھا جاتا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں