لاہور ہائیکورٹ: نکاح نامہ میں وقت نہ لکھا ہو تو بیوی کے مطالبے پر حق مہر ادا کرنا ہوگا
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ کا بیوی کو حق مہر دینے کے حوالے سے اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر نکاح نامہ میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو بیوی کے مانگنے پر مہر دینا ہوگا۔
عدالت نے خاتون درخواست گزار کی مہر دینے سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا بیوی کو حق مہر نہ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد حسین چھٹہ نے فاطمہ بی بی کی درخواست پر چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے شوہر سے نان نفقہ، جہیز اور 5 تولہ سونے کے مہر کی وصولی کا دعویٰ دائر کیا ہے۔
فیصلے کے مطابق فیملی کورٹ نے 5 ہزار روپے ماہانہ خرچ اور مہر ادا کرنے کا حکم دیا، جبکہ جہیز کا دعویٰ مسترد کر دیا، دونوں فریقین نے فیملی کورٹ کا فیصلہ ٹرائل کورٹ میں چیلنج کیا، ٹرائل کورٹ نے خرچ برقرار رکھا، کچھ جہیز یا 2 لاکھ 50 ہزار دینے کا حکم دیا، جبکہ مہر کا دعویٰ ختم کر دیا۔
درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق مہر سے متعلق فیصلہ غلط دیا گیا اور اس کا حق مارا گیا۔
عدالت نے قرار دیا میاں بیوی کی شادی ختم نہ بھی ہو تو بیوی مہر کی حقدار ہے، ٹرائل کورٹ نے مہر کے معاملے میں غلط فیصلہ دیا، لاہور ہائیکورٹ نے مہر سے متعلق فیملی کورٹ کا فیصلہ دوبارہ بحال کر دیا، عدالت نے قرار دیا کہ درخواست جزوی طور پر منظور کی جاتی ہے۔