آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر کیبلز کو خطرات، ڈیجیٹل معیشت متاثر ہونے کا خدشہ
تہران : (ویب ڈیسک) آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کی سکیورٹی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی، جہاں ایران نے حالیہ خبردار کیا ہے کہ یہ کیبلز خطے کی ڈیجیٹل معیشت کیلئے ایک کمزور نکتہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
عالمی خبررساں اداروں کے مطابق یہ تنگ آبی گزرگاہ نہ صرف عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم چوک پوائنٹ ہے بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اس کی اہمیت غیر معمولی ہے، سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی متعدد سب میرین فائبر آپٹک کیبلز جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کو خلیجی ممالک کے راستے یورپ اور مصر سے جوڑتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا کا تقریباً 99 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک انہی کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث کسی بھی نقصان یا رکاوٹ کی صورت میں انٹرنیٹ سروسز، مالی لین دین، ای کامرس اور کلاؤڈ سسٹمز شدید متاثر ہو سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں جدید ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک نے حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس کا انحصار بھی انہی زیرِ سمندر کیبلز پر ہے۔
اہم کیبل نیٹ ورکس میں اے اے ای ون، فالکن اور گلف برج انٹرنیشنل شامل ہیں جو خطے کو ایشیا، افریقہ اور یورپ سے جوڑتے ہیں۔
جغرافیائی اور توانائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی یا طویل تنازع کی صورت میں سمندری نقل و حرکت میں اضافے سے ان کیبلز کو حادثاتی نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ماضی میں بحیرہ احمر میں ایک جہاز کے اینکر سے کیبلز کو نقصان پہنچنے کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔
اگرچہ تکنیکی طور پر ان کیبلز کی مرمت ممکن ہوتی ہے، تاہم جنگی یا کشیدہ حالات میں اجازت ناموں، رسائی اور سکیورٹی خدشات کے باعث مرمت کا عمل طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ سسٹمز موجود ہونے کے باوجود وہ سب میرین کیبلز کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے، کیونکہ ان کی گنجائش محدود اور لاگت زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے عالمی ڈیجیٹل نظام اب بھی بڑی حد تک انہی کیبلز پر انحصار کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس حساس علاقے میں کسی بھی سب میرین کیبل کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں، اس کے نتیجے میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہو سکتی ہے، ویب سائٹس اور کلاؤڈ سروسز تک رسائی میں تاخیر آ سکتی ہے اور بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔