ریاستی سرپرستی میں بھارتی مہلک ادویات دنیا بھر میں عوام کی زندگیاں نگلنے لگیں
نئی دہلی: (دنیا نیوز) بھارتی دواساز کمپنیاں دنیا بھر میں منشیات کے فروغ اور لوگوں میں ذہنی و جسمانی تباہی کا باعث بن گئیں۔
عالمی جریدہ فارمیسی بزنس نے دنیا بھرمیں منشیات کے پھیلاؤ میں گمراہ کن بھارتی کردار کی قلعی کھول دی ہے۔
یوکے کے جریدہ فارمیسی بزنس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی دوا ساز کمپنیاں مہلک ادویات کے ذریعے افریقا میں منشیات یعنی زومبی ڈرگ بحران کو بڑھا رہی ہیں، امریکا میں بھی بھارتی اوپیئڈ ادویات کے استعمال سے تقریباً 10 لاکھ اموات ہو چکی ہیں جس کے بعد سخت پابندیاں لگائی گئیں۔
بھارت سے ہر ماہ بغیر اجازت لاکھوں ڈالر مالیت کی مصنوعی اوپیئڈ ادویات نائجیریا، سیرا لیون اور گھانا بھیجی جا رہی ہیں، یہی مہلک ادوایات خطے میں تیزی سے خطرناک منشیات کے استعمال کو بڑھا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی مہلک ادویات کے باعث افریقی ملک سیرا لیون کے دارالحکومت سے3 ماہ میں 400 افراد ہلاک ہوئے، بھارتی منشیات کو دہشت گردوں سمیت دیگر جرائم پیشہ نیٹ ورکس بھی استعمال کرکے مجرمانہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارتی مہلک کھانسی کے شربت سے بھی ازبکستان میں 18، گیمبیا میں تقریباً 70 اور مقبوضہ کشمیر میں 12 بچوں کی اموات ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاستی سرپرستی میں دنیا بھرمیں منشیات کے فروغ سے زندگیوں کی تباہی کے بعد عالمی برداری کی بھارت پر پابندیاں ناگزیر ہیں۔