انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 35 دہشت گرد مارے گئے: بلوچستان حکومت
کوئٹہ: (ویب ڈیسک) بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ بلوچستان کے علاقے منگلہ زرغون غر میں سکیورٹی فورسز کے 13 مئی سے جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے۔
پاکستانی حکومت فتنہ الہندوستان انڈیا کے مبینہ حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے لیے استعمال کرتی ہے، یہ کارروائی ایسے وقت کی گئی جب گزشتہ چند روز کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔
بلوچستان کے شہروں دالبندین، تربت، نوشکی اور مستونگ میں فائرنگ، حملوں اور توڑ پھوڑ کے مختلف واقعات میں ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل اور براہوی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر جان سے گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے اس صورت حال پر بتایا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد کیمپس اور ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے، جس سے ان کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے تین اہم کمانڈرز کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، جن سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، ان معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم کے سہولت کاروں اور پشت پناہ عناصر کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور ریاست پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس آپریشن کو بلوچستان اور ملک کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور مشکوک عناصر کی نشاندہی کریں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے بیرونی آقاؤں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
خیال رہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، پاکستان اور امریکہ سمیت کئی ممالک بی ایل اے کودہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، جس کے حملوں میں 2011 سے اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور اس نے چینی مفادات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔