روس کی پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کی بھرپور پذیرائی

ماسکو: (شاہد گھمن) ترجمان روسی وزارتِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے فروغ کیلئے پاکستان کے فعال سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ روس خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے سیاسی حل کیلئے اسلام آباد کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی صحافی و نمائندہ دنیا نیوز شاہد گھمن نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور مکالمے کے فروغ کے لیے روس کے آئندہ اقدامات کے بارے میں سوال کیا۔

جواب میں ماریہ زخارووا نے کہا کہ روسی فریق کشیدگی میں کمی اور موجودہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے پاکستان کی بھرپور ثالثی اور سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی متعدد مواقع پر اپنے بیانات اور بین الاقوامی رابطوں میں اسلام آباد کے تعمیری کردار کی تعریف کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام متعلقہ فریق ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت پر سختی سے عمل کریں اور خطے میں کسی نئی خطرناک کشیدگی کو جنم نہ لینے دیں، خصوصاً لبنان سمیت دیگر حساس علاقوں میں۔

ماریہ زخارووا نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز سے ہی روس نے اس صورتحال پر واضح، غیرجانبدار اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا تھا اور پورے بحران کے دوران ماسکو کا موقف تبدیل نہیں ہوا، روس مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار اور طویل المدتی استحکام کیلئے سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کیلئے تیار ہے۔

روسی ترجمان نے انکشاف کیا کہ 30 مئی کو روس نے عرب اور ایرانی شراکت داروں کو خلیج فارس میں اجتماعی سلامتی کے لئے روسی تصور (Russian Concept for Ensuring Collective Security in the Persian Gulf) کا تازہ ترین مسودہ پیش کیا ہے، اس منصوبے میں تنازعات کے مرحلہ وار حل، مشترکہ اور ناقابلِ تقسیم سلامتی کے اصول، اعتماد سازی کے اقدامات اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کے تحفظ کی تجاویز شامل ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ روسی اقدام خطے میں ایک نئی بعد از تنازع (Post-Conflict) علاقائی سکیورٹی اور بین الریاستی تعاون کے ڈھانچے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگا۔

اسی بریفنگ کے دوران نمائندہ دنیا نیوز شاہد گھمن نے روس میں پاکستانی طلبہ کے ویزوں اور جامعات میں داخلوں کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا، اس پر ماریہ زخارووا نے پاکستانی طلبہ کیلئے کسی نئی روسی ویزا پابندی یا سرکاری رکاوٹ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی کسی پابندی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان کے تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون فروغ پا رہا ہے جبکہ روس اور پاکستان کی جامعات مشترکہ تعلیمی پروگراموں پر بھی فعال انداز میں کام کر رہی ہیں۔

ماریہ زخارووا کے مطابق روسی جامعات میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے اور اس وقت تقریباً 1300 پاکستانی طلبہ روس کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، پاکستانی طلبہ کے حوالے سے گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

روسی ترجمان نے مزید کہا کہ اگر کسی طالب علم یا تعلیمی ادارے کے حوالے سے کوئی مخصوص مثال یا شکایت موجود ہو تو روسی حکام اس کا جائزہ لے کر اضافی معلومات فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔

مبصرین کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستان کے سفارتی کردار کی کھل کر تعریف اور پاکستانی طلبہ کے حوالے سے مثبت وضاحت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، تعلیمی روابط اور علاقائی امور میں تعاون کی عکاسی کرتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں