پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم ذریعہ، میری ٹائم رینکنگ 30 فیصد بہتر

اسلام آباد: (دنیا نیوز) چیئرمین میری ٹائم ٹاسک فورس افتخار احمد راؤ نے کہا ہے کہ پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے، بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا۔

وزیر اعظم کی میری ٹائم ٹاسک فورس کی اہم کامیابیوں سے متعلق سیکرٹری وزارت بحری امور اور ممبر ایف بی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین میری ٹائم ٹاسک فورس افتخار احمد راؤ کا کہنا تھا کہ دنیا کی 80 فیصد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے، پاکستان گلف کے اہم ترین حصے پر موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے، اگست 2024 میں میری ٹائم ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی، میری ٹائل ٹاسک فورس نے متعلق اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کی اور مسائل سنے،دسمبر میں وزیر اعظم کو سفارشات پیش کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری ٹائم ٹاسک فورس کی عملدرآمد کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی کے ساتھ ہو رہے ہیں۔

افتخار احمد راؤ نے کہا کہ کسٹم حکام نے مزید اہلکار فراہم کر کے میری ٹائم ورکنگ کو تیز کیا، بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا، پاکستان اب عالمی رینکنگ میں 69 ویں نمبر پر ہے، بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا۔

چیئرمین میری ٹائم ٹاسک فورس نے بتایا کہ پورٹ قاسم دنیا کی پانچ بہترین عالمی بندرگاہوں میں شامل ہوگئی ہے، شپنگ سیکٹر کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ پر شپ بلڈنگ میٹریل کی خریداری پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا، شپنگ سیکٹر میں کسٹم ڈیوٹی گزشتہ سال ختم کر دی گئی تھی، شپ بریکنگ کے حوالے سے نیا ایکٹ بن گیا ہے۔

پورٹس پر کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے فیس لیس سسٹم فعال کر دیا گیا: ممبر ایف بی آر

اس موقع پر ممبر ایف بی آر نے کہا کہ پورٹس پر کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے فیس لیس سسٹم فعال کر دیا گیا، ٹاسک فورس کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی گئیں، بڑے بحری جہازوں کو فیول فراہمی کے حوالے سے بھی اہم اقدامات کئے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ عملے کو تربیت فراہم کرنے کیلئے کورسز بھی کرائے جا رہے ہیں، پورٹس پر 50 ہزار کنٹینرز کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے، پورٹس پر ڈیوٹی ٹیکس کی وصولی کے مسائل کو حل کر دیا گیا، عالمی معیار کے مطابق ڈیوٹی ٹیکس وصولی کا عمل فیس لیس کر دیا گیا، فیس لیس سسٹم سے ریونیو میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے بعد مختلف اشیاء کی درآمد میں اضافہ ہوا، کسٹم کلیئرنس کا دورانیہ دو تہائی سے کم ہو کر 18 گھنٹے پر آگیا، بڑے جہازوں کو فیوم فراہم کرنے کیلئے قواعد و ضوابط وضع کیے، اب بڑے تجارتی بحری جہاز بھی ہماری بندرگاہوں پر آسکیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں