گل پلازہ آتشزدگی کیس: عدالت نے مزید تحقیقات کا حکم دے دیا
کراچی: (دنیا نیوز) جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے گل پلازہ آتشزدگی کیس میں تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تفتیشی افسر نے واقعے کے تمام پہلوؤں پر مؤثر تحقیقات نہیں کیں اور اداروں کی ممکنہ مجرمانہ غفلت کا بھی تعین کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ گل پلازہ میں سیفٹی رولز اور ریگولیشنز کی خلاف ورزیوں کا تعین نہیں کیا گیا جبکہ ایس بی سی اے، سول ڈیفنس، کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 سمیت متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ نہیں لیا گیا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ پولیس فائل کا حصہ نہیں، تاہم حیران کن طور پر وہ رپورٹ ریکارڈ میں موجود تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ 70 سے زائد قیمتی جانیں کسی قدرتی آفت کے باعث نہیں بلکہ ممکنہ مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ضائع ہوئیں، اس لیے ذمہ داروں کا تعین ناگزیر ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ سرکاری وکیل نے بتایا کہ پولیس چالان کی سکروٹنی کے دوران خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، لیکن دو مرتبہ چالان واپس کیے جانے کے باوجود تفتیشی افسر نے نقائص دور نہیں کیے۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ پولیس کی تفتیش کو من و عن تسلیم کرنے کی پابند نہیں اور کیس میں مزید تحقیقات ضروری ہیں۔
عدالت نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو ہدایت کی کہ کم از کم ڈی ایس پی رینک کے افسر کو نیا تفتیشی افسر مقرر کیا جائے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ گل پلازہ کا منظور شدہ نقشہ اور ریگولرائزیشن ریکارڈ حاصل کرکے اصل عمارت سے موازنہ کیا جائے اور یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ 1102 دکانیں 1153 کیسے بن گئیں۔
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ ایس بی سی اے کے ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی جائے، سول ڈیفنس سے فائر سیفٹی انسپکشن ریکارڈ، مارکیٹ کمیٹی کا ریکارڈ، کے ایم سی، ضلعی انتظامیہ، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور ٹریفک پولیس سے فائر آڈٹ، انسپکشن اور ریسکیو اقدامات کا مکمل ریکارڈ حاصل کیا جائے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ یہ بھی جائزہ لیا جائے کہ آتشزدگی کے وقت ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے سڑکیں کھلی تھیں یا نہیں۔