27 ستمبر احتجاج کیس: ایڈووکیٹ جنرل کے پی کی دو دن کا وقت دینے کی استدعا مسترد
اسلام آباد: (دنیا نیوز) پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کے پی کی دلائل کے لیے دو دن کی مہلت کی استدعا مسترد کر دی، کل پھر آئی جیز، سیکرٹریز سمیت تمام افسران کو طلب کر لیا گیا۔
چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف شامل ہیں، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، موٹروے پولیس، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان پولیس کے نمائندے جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن بھی عدالت میں موجود تھے۔
درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اہم اور حساس معاملے کے باعث شارٹ نوٹس پر عدالت آنے پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مئی 2022 میں سپریم کورٹ کو واضح یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی، 2024 کے عدالتی احکامات اور نومبر 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح حکم کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔
منصور عثمان اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دونوں تجربات نے بہت کچھ سکھایا، عدالت کو معاونت فراہم کروں گا کہ آیا موجودہ صورتحال میں ہائیکورٹ صوبوں کو ہدایات جاری کرسکتی ہے یا نہیں، اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کا 2022 کا فیصلہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی بھی عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائی۔
اٹارنی جنرل کے مطابق 2022 میں بانی پی ٹی آئی نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی کال دی تھی، جس کے دوران عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور بلیو ایریا میں گرین بیلٹ کو آگ لگائی گئی، نومبر 2024 میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی، جبکہ اس وقت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ وہ 2024 سے زیادہ تیاری کے ساتھ آرہے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نومبر 2024 کے واقعات میں 31 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ اس وقت موجودہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے بطور جج بانی پی ٹی آئی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چلانے کے حق میں اقلیتی رائے دی تھی۔
منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے بھی معلومات لی گئی ہیں اور تاحال سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی، انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ اس مرتبہ پہلے سے زیادہ تیاری کے ساتھ آنے کی بات کی جارہی ہے، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی شامل ہیں۔
اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق کسی کو بھی ہدایات جاری کرسکتی ہے۔
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ اس لانگ مارچ کو حملہ کیوں تصور کیا جارہا ہے؟ یہ عدالت ہیڈ آف پولیٹیکل پارٹی کے ساتھ ملاقات کا متعدد بار آرڈر کر چکی ہے، اس عدالت کے آرڈر کو مانا ہی نہیں گیا، درجنوں توہین عدالت کی درخواستیں دائر ہوچکی ہیں، مجھے دو دن کا وقت چاہئے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ ہم آپ کو کل تک کا وقت دے سکتے ہیں، آپ کل دلائل کا آغاز تو کریں، ہمارے گزشتہ سماعت کے عدالتی آرڈر کو ہر چینل پر کوریج دی گئی۔
ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ میری جتنی ذمہ داریاں ہیں ٹی وی دیکھنے کا وقت ہی نہیں، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو حملہ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟ یہ لانگ مارچ عدلیہ کے حق میں ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ عدلیہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، کیا عدلیہ اتنی کمزور ہے کہ آپ اسے مضبوط کرنا چاہتے ہیں؟ عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ اسے ایک سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہو۔
درخواست گزار وکیل نے ایڈووکیٹ جنرل کے پی پر اعتراض کیا کہ کیا یہ سزا یافتہ قیدی کی نمائندگی کر رہے ہیں ؟
عدالت نے کل تک ایڈووکیٹ جنرل کے پی سے ماضی میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ریکارڈ طلب کر لیا، ایڈووکیٹ جنرل کو دو دن کا وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی، تمام صوبوں کے آئی جیز، سیکرٹریز اور دیگر افسران پھر طلب کر لیے، نوٹس جاری کیا گیا کہ کل بھی تمام افسران پیش ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments