میر رضا کیس: پولیس نے ثبوت جلائے اور بیورو کریسی نے بورڈ بدلا، جوڈیشل کمیشن
کراچی: (دنیا نیوز) میر رضا قتل کیس میں بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کا کہنا ہے کہ پہلی تفتیشی ٹیم نے شواہد ضائع کیے اور ماتحتوں پر ملبہ ڈال دیا۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات کو میر رضا کیس کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہوئی۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر مداخلت کرکے میر رضا قتل کیس میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا اور بورڈ میں تبدیلیاں کیں۔
کمیشن نے کہا کہ پہلی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے 6 دن میں کیس کا بیڑہ غرق کیا، 52 کیمروں میں سے ایک فوٹیج لی، کرائم سین کی جھاڑیاں جلا دیں، پہلی تفتیشی ٹیم نے شواہد ضائع کیے اور ماتحتوں پر ملبہ ڈال دیا۔
کمیشن نے سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی کو طلب کیا اور پوچھا کہ آپ کا نام دو گواہوں نے لیا تھا آپ نے کب عہدہ سنبھالا؟ ڈاکٹر اسامہ آپ کے ماتحت آتا ہے؟ طاہر حسین نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ صحت کے ادارے کے ماتحت آتا ہے۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسامہ نہ صرف کمیشن کو متنازع بنا رہے ہیں بلکہ ان کے اقدامات محکمہ صحت کو بھی متنازع بنا رہے ہیں۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن پیر تک امید ہے کارروائی مکمل کرلے گا، اس کے بعد رپورٹ لکھنے کا کام شروع کیا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments