جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، ایران لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتا: پزشکیان
نیویارک: (ویب ڈیسک) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا، اب جنگ کے خاتمے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔
فوکس نیوز کو انٹرویو میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہے، تاہم ایران پر دباؤ ڈالنے یا طاقت کی زبان استعمال کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ جب مسائل بات چیت سے حل کیے جاسکتے ہوں تو ایک دوسرے کو مارنے کی ضرورت نہیں، لیکن اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں جنگ ایران پر مسلط کی گئی۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک معاہدے پر دستخط کے صرف دو ہفتے بعد اسے ختم کیوں کیا گیا؟
پزشکیان نے کہا کہ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے، امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل یا بعد میں معاہدہ ہونے سے ایران کیلئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، تاہم فریقین کے درمیان مذاکرات فوری طور پر کسی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکے۔
مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے ایران پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جس ملک کو تباہ کرنا چاہتا ہے، اس پر دہشت گردی کا الزام عائد کردیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ اپنی سرزمین کے دفاع میں کارروائیاں کی ہیں۔
ایرانی صدر نے یمن کی حوثی تحریک سے متعلق کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں اور تہران سے ہدایات نہیں لیتے۔ ان کے مطابق ایران کے حوثیوں کے ساتھ رابطے ضرور ہیں، تاہم دونوں کے درمیان کوئی منظم تعلق موجود نہیں۔
ڈاکٹر پزشکیان نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق کہا کہ وہ حکومت چلانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور ملک کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ادھر سعودی عرب نے جمعرات کو حوثیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام نے اس سے قبل مکہ سمیت متعدد علاقوں کیلئے بھی انتباہ جاری کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، جبکہ خلیج اور بحیرہ احمر کے راستوں سے تیل کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments