وزیراعظم کی لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو، مویشیوں کی ویکسین کا پلانٹ لگانے کی ہدایت
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو اور مویشیوں کی جدید ویکسین کی مقامی سطح پر پیداوار کیلئے قومی پلانٹ قائم کرنے کی ہدایت کر دی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت لائیو سٹاک کے شعبے میں جاری اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کا پلان جلد از جلد پیش کیا جائے، بورڈ میں نجی شعبے کے ماہرین کو شامل کرکے اسے ایک مؤثر اور فعال ادارے میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی کیلئے نجی شعبے کو آگے بڑھنا چاہیے، لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ پاکستان میں مویشیوں کی افزائش، دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے اور شعبے کی ترقی کیلئے 2007 میں قائم کیا گیا تھا۔
شہباز شریف نے لائیو سٹاک کیلئے خصوصی بونڈڈ ویئر ہاؤسز میں لائے گئے درآمد شدہ مویشیوں کو ویلیو ایڈیشن کے عمل میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ درآمد شدہ مویشیوں سے گوشت اور دودھ کی مصنوعات تیار کرکے برآمد کی جائیں۔
وزیراعظم نے وفاقی حکومت کو اپنے وسائل سے مویشیوں کیلئے جدید اور مؤثر ویکسین کی پیداوار کا قومی سطح کا پلانٹ قائم کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں مویشیوں کی ویکسین کا پلانٹ قائم کرنے کے حوالے سے حکمت عملی ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو لائیو سٹاک کے شعبے میں اصلاحات اور اس سے منسلک برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مذبح خانوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
شرکا کو بتایا گیا کہ پاکستان میں مویشیوں کیلئے دستیاب ویکسین ڈریپ سے منظور شدہ نہیں، اس لیے ملک میں مویشیوں کیلئے پیوریفائڈ ویکسین کی پیداوار کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ درآمد کیے جانے والے مویشیوں کیلئے خصوصی بونڈڈ ویئر ہاؤسز کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments