راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر روس کی امریکا پر شدید تنقید
ماسکو: (شاہد گھمن) روسی وزارتِ خارجہ نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف امریکا میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔
روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی شہر میامی میں ایک جج کی جانب سے کیوبا کے سابق صدر اور فوجی جنرل راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ ماسکو کے لیے قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک عدالت نے پیر کے روز کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ ان کی عمر 95 سال بتائی گئی ہے۔
امریکی حکام نے رواں سال مئی میں راؤل کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات عائد کیے تھے۔ ان پر قتل کے چار الزامات، دو طیاروں کو تباہ کرنے اور امریکی شہریوں کے قتل کی سازش کا الزام ہے۔ اس مقدمے میں راؤل کاسترو کے علاوہ مزید پانچ افراد کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق یہ الزامات ممکنہ طور پر 1996 کے اس واقعے سے متعلق ہیں، جب کیوبا کی فضائیہ نے میامی میں قائم کیوبا کے جلاوطن افراد کی تنظیم برادرز ٹو دی ریسکیو کے دو طیارے مار گرائے تھے۔
رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں استغاثہ نے رواں سال کے آغاز میں اس واقعے کی تحقیقات دوبارہ شروع کی تھیں۔
روسی وزارتِ خارجہ نے امریکی عدالتی اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو راؤل کاسترو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments