5 تاریخی مساجد کی مسماری کے بعد نئی دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو بھی خالی کرنے کا نوٹس جاری

نئی دہلی: (دنیا نیوز) بھارت میں مودی حکومت کی جانب سے مسلم شناخت اور اسلامی تاریخی ورثے کو مٹانے کی مبینہ کوششیں جاری ہیں، پانچ تاریخی مساجد مسمار کرنے کے بعد نئی دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو بھی 6 دن میں خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق تاریخی ریس کورس مسجد کو تجاوزات قرار دے کر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، تاہم مسجد کے امام کا کہنا ہے کہ 2021 کے سرکاری سروے کے مطابق تاریخی مسجد قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے، تجاوزات کا حکومتی دعویٰ مسلم کش سازش ہے۔

امام مسجد کے مطابق گزشتہ 6 ماہ میں بارہا درخواستوں کے باوجود دہلی وقف بورڈ نے مسجد کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا، مودی انتظامیہ نے 7 اکتوبر 2026 کو مسجد کے بجلی اور پانی کے کنکشنز بھی منقطع کر دیئے تھے۔

جمعیت علماء ہند نے حکومتی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریس کورس مسجد قانوناً محفوظ ورثہ ہے جس پر بی جے پی قابض ہونا چاہتی ہے۔

تنظیم نے ریاستی جبر کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس فوری معطل کیا جائے اور مساجد کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ بنیادی سہولیات بحال کی جائیں۔

دوسری جانب میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق بھی تاریخی مسجد کے تحفظ کیلئے میدان میں آ گئے، انہوں نے وقف حکام کی جانب سے مسجد کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

میرواعظ عمر فاروق نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ یہی معمول بنتا جا رہا ہے؟ اگر قانونی طور پر تسلیم شدہ مسجد بھی محفوظ نہیں تو دیگر مسلم عبادت گاہوں کے تحفظ کی کیا ضمانت ہے؟

سیاسی ماہرین کے مطابق متنازع وقف ترمیمی ایکٹ 2025 بھارت میں مسلم شناخت اور اسلامی تاریخی ورثے کو مٹانے کا ہتھیار بن چکا ہے، وقف ایکٹ کے تحت مساجد کی رجسٹریشن کے اختیارات ضلعی بیوروکریسی کو دے کر اوقاف کی خودمختاری ختم کر دی گئی ہے۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ محض 3 برس میں بی جے پی حکومت نے 860 سے زائد مساجد، مدارس اور مزارات مسمار کیے، جن میں سہارنپور کی 120 سالہ، مہراولی کی 700 سالہ اخوندجی اور وارانسی کی 200 سالہ قدیم مساجد بھی شامل ہیں جبکہ اجین کی 600 سالہ شاہی مسجد بھی ہندوتوا کا نشانہ بن گئی۔

سیاسی ماہرین نے مزید کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار 9 ریاستوں میں 3.82 ملین ایکڑ پر پھیلی وقف املاک کو شدید خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے بھی اقلیتوں کے خلاف جاری انتقامی اور غیر قانونی کارروائیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...