فلم گھوسٹ سکول 3 ماہ کی قانونی جدوجہد کے بعد سندھ میں ریلیز کیلئے تیار
کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ میں تعلیمی مسائل کو اجاگر کرنے والی فلم گھوسٹ سکول کی ریلیز کی راہ ہموار ہوگئی ہے، تین ماہ کی قانونی جدوجہد کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے فلم کو بغیر کسی کٹوتی کے ریلیز کرنے کی اجازت دے دی۔
ہدایت کارہ سیماب گل کے مطابق سندھ سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کے بعض مناظر کاٹنے کے مطالبےکے بعد انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
فلم کی کہانی رابعہ نامی 10 سالہ بچی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے گاؤں کے واحد سکول کی اچانک بندش کی وجہ جاننے نکل پڑتی ہے، سکول کے آسیب زدہ ہونےکی افواہوں کے پیچھے چھپی حقیقت تلاش کرتی رابعہ کی کہانی سندھ میں غیر فعال سکولوں اور بچیوں کی تعلیم کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔
فلم کی سندھ میں ریلیز کی اجازت ملنے پر سیماب گل نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہمیشہ چاہتی تھیں کہ سندھ کے لوگ یہ کہانی دیکھیں، کیونکہ یہ انہی کے معاشرے سے جڑی ہوئی ہے۔
فلم کی سنیماٹوگرافر زمرین وحدت افغانستان میں پیدا ہونے والی جرمن فلم ساز ہیں، ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق کو درپیش خطرات نے اس موضوع کو ان کے لیے مزید اہم بنا دیا، یہی وجہ ہے کہ گھوسٹ سکول ان سے ذاتی طور پر قریب ہے ۔
زمرین وحدت کے مطابق انہوں نے اسی وجہ سے گھوسٹ سکول میں بہ حیثیت سنیماٹوگرافر کام کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں لیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ میں ریلیز کے معاملے پر قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنے والی یہ فلم جرمنی کےکم از کم 11 سنیما گھروں سمیت اس سال برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جاچکی ہے۔
ہدایت کارہ کے مطابق فلم گھوسٹ سکول 30 اکتوبر کو پنجاب اور سندھ میں ریلیز کی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments