عدلیہ مخالف پروپیگنڈا کے خلاف دائر درخواست پر تحریری حکم جاری
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کے خلاف دائر درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عدلیہ کے خلاف منفی مہم اور عوام میں عدلیہ کا اعتمادن کم کرنے کا باعث بننے والے افراد کے خلاف کارروائی کریں۔
تحریری حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی جائز تنقید کو خاموش کرانے کے لیے نہیں بلکہ ادارے کی تکریم اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہے۔
عدالت نے کہا کہ تمام اداروں کی طرح عدلیہ بھی جائز تنقید کے معاملے پر کھلی سوچ رکھتی ہے اور عدالتی فیصلوں پر علمی، پیشہ ورانہ اور عوامی سطح پر تنقید کی جا سکتی ہے۔
عدالت کے مطابق تنقید نیک نیتی، شائستہ زبان اور فیصلے کی قانونی وجوہات تک محدود ہونی چاہیے تاہم عدلیہ کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم اور کردار کشی قابلِ قبول نہیں۔
تحریری حکم میں کہا گیا کہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کسی جج پر جانبداری یا بددیانتی کے الزامات لگانا درست نہیں اور ایسی تنقید جو نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کو کمزور کرے، اس کے قانونی نتائج مرتب ہوتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 اے آزادیٔ اظہار کا حق ضرور دیتا ہے مگر یہ حق غیر مشروط نہیں ہے اور آزادیٔ اظہار کو قانون کے تحت عائد پابندیوں کا پابند بنایا گیا ہے، ایسا اظہارِ رائے قابلِ قبول نہیں جو اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، دفاع یا اخلاقیات کے خلاف ہو۔
دورانِ سماعت ڈی جی این سی سی آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدلیہ کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی 22 جنوری کو کرنے کا حکم دیا ہے۔