پبلک انٹرسٹ کے نام پر فیئر ٹرائل کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پبلک انٹرسٹ کے نام پر کسی بھی ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالت کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے توہین مذہب کے مقدمے میں نامزد ملزمان کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں حکم دیا گیا کہ ملزمان کو شواہد سے متعلق تمام دستاویزات فراہم کی جائیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس رپورٹ کے ساتھ منسلک تمام دستاویزات مقدمے کا حصہ ہوتی ہیں اور ملزمان کو ان تک مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے، عدالت کے مطابق واٹس ایپ میسجز، فرانزک رپورٹس اور دیگر تمام شواہد بھی ملزمان کو فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنا مؤثر دفاع کر سکیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ شواہد تک رسائی کے بغیر منصفانہ ٹرائل ممکن نہیں اور فیئر ٹرائل ہر ملزم کا بنیادی حق ہے، فیصلے میں واضح کیا گیا کہ پبلک انٹرسٹ کے نام پر ہر دستاویز کو نہیں روکا جا سکتا اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا لازم ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ قانونی تقاضے پورے ہو سکیں۔