این ڈی ایم اے کا 4 جولائی تک ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

اسلام آباد: (دنیا نیوز) نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے یکم سے 4 جولائی 2026 تک ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

الرٹ کے مطابق مون سون سسٹم اور مغربی ہواؤں کے زیر اثر خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں پہاڑی ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ اور فلیش فلڈ کا خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا کے چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، سوات، دیر، چترال، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، تورغر اور کوہستان کے پہاڑی ندی نالے متاثر ہو سکتے ہیں۔

پنجاب کے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کے نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

الرٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں میں بھی مقامی سطح پر اچانک سیلاب آسکتا ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ برقرار ہے۔

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شہری علاقوں میں شدید بارش کے دوران نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں، ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے، سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات، نکاسی آب کے مؤثر انتظامات، ہنگامی مشینری کی تیاری، دریا کے بہاؤ اور گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ نشیبی علاقوں اور دریا کے کنارے غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور موسمی صورتحال، ممکنہ خطرات اور حفاظتی تدابیر سے متعلق مستند معلومات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ اور متعلقہ اداروں کی جاری کردہ ہدایات سے رہنمائی حاصل کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں