محرم جلوس کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کردی
لاہور: (دنیا نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے محرم کا جلوس منظور شدہ راستے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نکالنے کے الزام میں درج مقدمے میں ملزم سید طارق حسین بخاری کی قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کر دی۔
جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے ملزم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کی گرفتاری سے کوئی مفید مقصد حاصل نہیں ہوگا جب کہ گرفتاری سے انکار قبل از ٹرائل سزا کے مترادف ہوگا۔
ایف آئی آر میں عائد دفعات قابل ضمانت ہیں، جبکہ پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 16 کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 16 کا جرم ناقابل ضمانت ضرور ہے، تاہم یہ ممنوعہ شق میں شامل نہیں۔ ملزم پر محرم کا جلوس منظور شدہ راستے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نکالنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس نے مبینہ واقعے کے بعد ملزم کو امن و امان برقرار رکھنے پر تعریفی سند بھی جاری کی، جو مقدمے میں عائد الزامات اور ملزم کی امن و امان کے لیے خدمات کے درمیان واضح تضاد ظاہر کرتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ مقدمے میں ملزم کے خلاف مزید تحقیقات کی ضرورت ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیے جانے کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا، ملزم سے کسی قسم کی برآمدگی بھی مطلوب نہیں ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کورٹ دستیاب شواہد کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ کرے گی جب کہ موجودہ فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہیں اور انہیں مقدمے کے حتمی فیصلے پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔
مزید برآں لاہور ہائیکورٹ نے ملزم سید طارق حسین بخاری کی قبل از گرفتاری ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments