پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست مسترد

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس شہباز رضوی نے فلک جاوید کے والد جاوید اقبال کی درخواست پر سماعت کی، جس میں ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل کو اے ٹی سی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فلک جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا، تاہم رہائی کے فوری بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ وکیل کے مطابق ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں فلک جاوید کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا گیا تھا، جبکہ رہائی کے بعد گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید کی فیک ویڈیو کیس میں ضمانت منظور ہوئی، تاہم اسی روز تھانہ ریس کورس نے نو مئی کیس میں گرفتاری ڈال کر ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔ وکیل کے مطابق فلک جاوید کو سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ میں گرفتار کیا گیا اور اے ٹی سی عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ لیا گیا۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فرخ خان لودھی نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید کو اے ٹی سی عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر دے رکھا ہے۔ وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فلک جاوید کو آج دوبارہ عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست کس طرح قابلِ سماعت ہے اور درخواست گزار کے وکیل کو اے ٹی سی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ جسٹس شہباز رضوی نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ ریمانڈ کیس کا فیصلہ نہیں کر رہی اور وکیل کو فلک جاوید کو دیے گئے ریمانڈ کو متعلقہ عدالت میں چیلنج کرنے کی ہدایت کی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ فلک جاوید کو بازیاب کراکے رہائی کا حکم دیا جائے، تاہم لاہور ہائیکورٹ نے درخواست مسترد کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...