2025 میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پاس ورڈ 123456

سلیکان ویلی: (ویب ڈیسک) ڈیجیٹل سکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والی معروف کمپنی نورڈ پاس نے سال 2025 کے دوران دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاس ورڈز کی فہرست جاری کر دی ہے جس میں 123456 کو سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پاس ورڈ قرار دیا گیا۔

یہ فہرست مختلف عالمی ڈیٹا لیکس اور سیکیورٹی کی خامیوں میں سامنے آنے والے پاس ورڈز کے تجزیے کے بعد مرتب کی گئی ہے، جو ایک بار پھر آن لائن صارفین کی کمزور ڈیجیٹل عادات کو بے نقاب کرتی ہے۔

نارڈ پاس کے مطابق، کمپنی کئی برسوں سے لیک ہونے والے پاس ورڈز کا باریک بینی سے جائزہ لیتی آ رہی ہے، اس حوالے سے انہوں نے فہرست شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ کئی برس تک سامنے آنے والے لیک شدہ پاس ورڈز کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ لوگ اکثر اپنے پہلے نام یا خاندانی نام کے ساتھ چند اعداد شامل لکھ کر پاس ورڈ بناتے ہیں، جیسے kristian123 یا Joan83۔

گرچہ ایسے پاس ورڈز عموماً عالمی سطح پر ٹاپ لسٹ میں شامل نہیں ہوتے، تاہم ہر ملک میں مقامی طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والے نام اور خاندانی نام پاس ورڈز میں نمایاں نظر آتے ہیں، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جغرافیہ اور ثقافت پاس ورڈ بنانے کی عادات پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ 

نارڈ پاس کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق 2025 میں بھی دنیا بھر میں نہایت سادہ اور آسانی سے اندازہ لگائے جانے والے پاس ورڈز سب سے زیادہ استعمال ہوتے رہے۔

یہ پاس ورڈز کروڑوں مرتبہ مختلف ڈیٹا لیکس میں سامنے آ چکے ہیں، سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ پاس ورڈز چند سیکنڈز میں ہیک کیے جا سکتے ہیں، اس کے باوجود دنیا بھر کے صارفین انہیں بار بار استعمال کر رہے ہیں۔

جنریشن زی کے پاس ورڈز

نارڈ پاس نے اپنی رپورٹ میں جنریشن زی یعنی نوجوان صارفین کے پاس ورڈز کا الگ ڈیٹا بھی شیئر کیا ہے، اس فہرست میں بھی سادہ نمبرز اور عام الفاظ نمایاں رہے۔

یہ پاس ورڈز ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوان صارفین بھی سہولت کو سکیورٹی پر ترجیح دے رہے ہیں، حالانکہ یہی گروپ ڈیجیٹل دنیا میں سب سے زیادہ متحرک سمجھا جاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ نارڈ پاس کی یہ تمام فہرستیں کسی اندازے یا سروے پر مبنی نہیں، بلکہ یہ وہ پاس ورڈز ہیں جو دنیا بھر میں ہونے والی ڈیٹا بریکس اور ہیکنگ واقعات کے دوران لیک ہو کر سامنے آتے ہیں، مختلف ویب سائٹس، ایپس اور آن لائن سروسز کے ڈیٹا لیک ہونے کے بعد یہ پاس ورڈز پبلک ڈیٹابیسز کا حصہ بنتے ہیں، جہاں سے سیکیورٹی کمپنیاں ان کا تجزیہ کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بار بار ایک جیسے، سادہ اور ذاتی معلومات پر مبنی پاس ورڈز کا استعمال صارفین کو سنگین سائبر خطرات سے دوچار کر سکتا ہے، جس میں اکاؤنٹس ہیک ہونا، شناخت چوری ہونا اور مالی نقصان شامل ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں