نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی، امریکی اخبار

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال جون میں بھی صدر ٹرمپ نے اسی نوعیت کا مبہم اشارہ دیا تھا حالانکہ اس وقت وہ ایران پر حملے کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے۔

اسی پس منظر میں ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فوجی کمانڈرز کی جانب سے پیش کردہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے اور حملے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی سکیورٹی ادارے ملک گیر احتجاج کے معاملے پر آگے کیا اقدام کرتے ہیں۔

اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف بھی یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا، اور فیصلے میں یہ تبدیلی خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔

برطانوی اخبار کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے  اچھے عمل  کا مظاہرہ کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں