تاجک فورسز کا افغانستان سے دراندازی کرنیوالے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کرنیکا کا دعویٰ
دوشنبہ: (ویب ڈیسک)تاجکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے پڑوسی ملک افغانستان سے سرحد پار کرنے والے چار افراد کو ہلاک کر دیا ہے، جنہیں سرکاری طور پر ’دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں افغانستان اور تاجکستان کے سرحدی علاقے میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تاجک سکیورٹی اداروں کے مطابق جنوبی علاقے خاتلون میں یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب مسلح افراد نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا، تاجک حکام کے مطابق نومبر کے بعد سے افغانستان کے ساتھ سرحد پر اس نوعیت کے کم از کم 5 واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر 16 افراد کی ہلاک ہوئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تاجک سرحدی محافظ، چینی شہری اور وہ افراد شامل ہیں جنہیں تاجک حکومت ’اسمگلر‘ اور ’دہشت گرد‘ قرار دیتی ہے۔
نومبر میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد تاجک حکام نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس غیر مستحکم سرحدی خطے میں بدامنی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔