روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کا دوسرا روز، امن منصوبے پر بات چیت
دبئی، ابوظہبی: (سید مدثر خوشنود) متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہو گئے ہیں۔
مذاکرات کے دوران تینوں ممالک کے اعلیٰ مندوبین ایک ممکنہ امن منصوبے اور سیاسی حل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات براہِ راست نوعیت کے ہیں، جن کا مقصد یوکرین تنازع میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کے امکانات اور مستقبل کے سفارتی فریم ورک پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔
یو اے ای ان مذاکرات میں میزبان اور سہولت کار کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سفارتی حلقوں میں غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد مقام سمجھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں انسانی بحران، علاقائی سلامتی، قیدیوں کے تبادلے اور ممکنہ سیاسی روڈ میپ جیسے نکات زیرِ غور آئے۔
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مکالمے کا تسلسل ہی پائیدار حل کی طرف واحد راستہ ہے، تاہم کسی حتمی اعلان یا معاہدے کا فوری امکان ظاہر نہیں کیا گیا۔
پاکستانی قارئین کے لیے اس خبر کی اہمیت اس تناظر میں ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان یہ سفارتی عمل مشرقِ وسطیٰ میں ہو رہا ہے، جہاں پاکستان کے بھی مضبوط سفارتی، معاشی اور عوامی روابط موجود ہیں۔
بین الاقوامی امن کی ایسی کوششیں عالمی سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کسی مثبت پیش رفت کی طرف بڑھتے ہیں تو یہ نہ صرف یوکرین بحران بلکہ عالمی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی حیثیت مزید مستحکم ہو گی۔