روس میں پہلا روزہ 19 فروری بروز جمعرات کو ہوگا: مفتی اعظم
ماسکو: (شاہد گھمن) روس میں رمضان المبارک 2026 کا آغاز 18 فروری کی شام غروبِ آفتاب کے ساتھ ہوگا جبکہ پہلا روزہ 19 فروری بروز جمعرات رکھا جائے گا۔
اس بات کا اعلان روس کے مفتیان کونسل کے چیئرمین اور روس کے مفتی اعظم شیخ راوِل گائنتدین نے اپنے خصوصی پیغام میں کیا، اپنے بیان میں مفتی اعظم نے کہا کہ رمضان المبارک اسلام کا سب سے بابرکت اور مقدس مہینہ ہے جو روحانی تربیت، صبر، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزہ انسان کو تقویٰ کی راہ پر گامزن کرتا ہے اور معاشرے میں ہمدردی، سخاوت اور ایثار کے جذبات کو فروغ دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس مقدس مہینے میں کی جانے والی عبادات اور نیک اعمال کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس مہینے کو عبادت، دعا اور خدمتِ خلق میں گزاریں۔
مفتی اعظم نے روس کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان اتحاد و یگانگت کا پیغام دیتا ہے اور موجودہ حالات میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے ملکی قیادت اور عوام کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کی دعا بھی کی۔
دارالحکومت ماسکو میں 18 فروری کی شام پہلی نمازِ تراویح ادا کی جائے گی، جبکہ سحر و افطار کے اوقات مقامی فلکیاتی حساب کے مطابق مقرر کیے گئے ہیں، پروسپیکٹ میرا پر واقع ماسکو کیتھیڈرل مسجد سمیت ملک بھر کی مساجد میں خصوصی عبادات، دروسِ قرآن اور اجتماعی افطار کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
روس کے دیگر شہروں بشمول سینٹ پیٹرزبرگ، کازان اور گروزنی میں بھی رمضان کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، مختلف علاقوں میں جغرافیائی فرق کے باعث سحر و افطار کے اوقات میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، تاہم بیشتر علاقوں میں روزے کا دورانیہ تقریباً 12 سے 13 گھنٹے کے درمیان متوقع ہے، مسلمان کمیونٹی کی جانب سے اس بابرکت مہینے کے استقبال کے لیے مساجد کو سجایا گیا ہے اور فلاحی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔