گولڈن ٹیمپل قتل عام اقوام متحدہ بھارت کےخلاف تحقیقات کرےلاکھوں سکھوں کامطالبہ

گولڈن ٹیمپل قتل عام اقوام متحدہ بھارت کےخلاف تحقیقات کرےلاکھوں سکھوں کامطالبہ

فسادات کی29ویں برسی پرجنیوا میں سکھوں کا مظاہرہ، اقوام متحدہ میں درخواست دائر، کانگریس پر ڈیتھ اسکواڈ چلانے، سکھوں کو چن چن کر مارنے کے الزامات سزا نہ ملنے سے مجرموں کے حوصلے بلند ہوئے،بھارتی مسلمانوں کا قتل عام اس کی کڑی ہے،کھلی چھوٹ کے ساتھ مظالم کا سلسلہ دُہرایا جارہا ہے،اندرا پرشانت

جنیوا(اے ایف پی،فارن ڈیسک)دنیا بھر کے10 لاکھ سے زائد سکھوں نے اقوام متحدہ سے بھارت کیخلاف 1984ء کے قتل عام کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کردیا۔گزشتہ روز ہزاروں سکھوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ انہوں نے 1984ء میں بھارت میں سکھوں کے مقدس ترین گردوارے گولڈن ٹیمپل میں ہونے والےفوجی آپریشن اور اس کے بعد پھوٹنے والے سکھ مخالف فسادات کی عالمی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے کہا کہ 29سال قبل ہونے والا سانحہ دراصل ریاست کے تحت کیا جانے والا قتل عام تھا۔مظاہرے میں یورپ،شمالی امریکا، بھارت،ہانگ کانگ اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنےوالے 10ہزار سےز ائد سکھ شریک تھے۔ نیویارک میں قائم تنظیم ’’سکھ فارجسٹس‘‘ نے 10لاکھ سے زائد افراد کی دستخطوں پر مشتمل درخواست اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق میں جمع کرائی۔اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کے افسران سے بھی ملاقات کی۔سکھ فار جسٹس کے پالیسی ڈائریکٹر کینیڈین نژاد جتندر سنگھ نے کہا کہ دنیا سے سچ چھپایا گیا ہے،نومبر 1984میں بھارت میں ایک مذہبی اقلیت کو دانستہ اور منظم انداز میں ختم کرنے کی کوشش کی گئی،اور وہ قتل عام نہ صرف حکومت کی رضامندی سے ہوا بلکہ اس میں نئی دہلی حکومت خود بھی شریک رہی۔یاد رہے کہ جون 1984ءمیں اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے آپریشن بلو اسٹار کی منظوری دی تھی جس کا مقصد ان باغی سکھوں کو نکال باہر کرنا تھا جو خالصتان کی خودمختار ریاست کے لئے لڑرہے تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر گولڈن ٹیمپل میں پناہ لی ہوئی تھی۔بھارتی فوج نے ٹینکوں کی مدد سے ٹیمپل پر چڑھائی کردی جس کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد سکھ مارے گئے جن میں بیشتر عام شہری تھے۔آپریشن میں درجنوں فوجی بھی ہلاک ہوئے۔فوجی آپریشن کے ردعمل میں اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے ہی قتل کردیا جس کے بعد ملک بھر میں سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے جن میں 30ہزار کے قریب سکھ مار دیے گئے،بے شمار خواتین کی آبروریزی ہوئی اور 3 لاکھ سکھ بے گھر ہوگئے۔کینیڈین سوشیالوجسٹ اندرا پرشانت نے کہا کہ 84ء کے قتل عام کے مجرموں کو سزا نہ ملنے کی وجہ سے ان لوگوں کے حوصلے بلند ہوئے جنہوں نے 1992ء اور 2002ء میں بھارتی مسلمانوں اور2008ء میں عیسائیوں کا قتل عام کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم مظالم اس لیے یاد رکھتے ہیں تاکہ ماضی دہرایا جائے لیکن بھارت میں کھلی چھوٹ کے ساتھ مظالم کا یہ سلسلہ مسلسل دہرایا جارہا ہے۔سکھ فار جسٹ کے قانونی مشیرگرپت سنگھ نے کہا کہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو اسے چاہیے کہ تحقیقات ہونے دے،لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کے پاس ڈھانچے ہیں،سکھوں کی لاشوں کے ڈھانچے۔انہوں نے کہا کہ 84ء میں فسادات کے دوران کانگریس کے عہدے داران ڈیتھ اسکواڈ چلاتے تھے،حکام قاتلوں کو مسلح کرکے انہیں آمدورفت کی سہولت فراہم کرتے تھے،سکھوں کو چن چن کر مارنے کیلئے ووٹنگ لسٹوں سے مدد لی جاتی تھی اور سرکاری میڈیا خون کے بدلے خون کا مطالبہ کرتا تھا۔واضح رہے کہ کسی برادری کے منظم انداز میں قتل پر جنیوا کنونشن کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں