امریکا کو بتادیا سفا رتخانے پر حملے کا اسرائیل کو جواب ضرور ملے گا:ایران

امریکا  کو  بتادیا  سفا رتخانے  پر  حملے  کا  اسرائیل  کو  جواب  ضرور ملے  گا:ایران

تہران ،واشنگٹن(اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے شام میں اپنے سفارتخانے پر اسرائیلی حملے کا جواب دینے کا اعلان کردیا جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہناہے کہ اس حملے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں۔

ایک روز قبل دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اسرائیل کی حمایت کرنے پر امریکا کو بھی جوابدہ ٹھہرائے گا۔ ایرانی صدر ابراہیم  رئیسی نے اسرائیل کو سفارت خانے پر حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد الہیان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملے کے بعد ایران میں امریکی مفادات کو دیکھنے والے سوئس سفارت خانے کے اہلکاروں کو طلب کیا گیا۔سوئس حکام کو اسرائیلی حملے کے بارے میں بتایا گیا اور اس میں امریکا کی ذمہ داری کی نشاندہی کی گئی ۔ اسی ملاقات میں صہیونی حکومت کے حمایتی کے طور پر امریکی حکومت کو ایک اہم پیغام بھی بھجوایا گیا۔ایرانی وزیرخارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی بمباری پر سنگین ردعمل ظاہر کرے ۔ دوسری طرف حزب اللہ نے بھی کہا ہے کہ اسرائیلی حملے کا جواب دیا جائے گا۔ روس نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیل کے فضائی حملے پر بریفنگ کے لئے سلامتی کونسل کااجلاس طلب کر لیا ۔ سعودی عرب نے شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصلیٹ کی عمارت کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے جبکہوائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ شام میں ایرانی سفارتخانے پر حملے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں جہاں اس حملے میں ایران کے پاسداران انقلاب کے 7 اہلکاروں سمیت 13 افراد مارے گئے تھے ۔

امریکا کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہمارا دمشق میں کئے گئے حملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ہم اس میں کسی بھی طرح سے ملوث نہیں ہیں۔انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کا اصل حامی اور مددگار امریکا اس حملے کی ذمے داری قبول کرتا ہے ۔انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے اسرائیلی کارروائی کو سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی سفارتخانے پر حملہ کر کے اسرائیل نے خطرناک لکیر عبور کر لی ہے ۔دمشق میں سٹریٹجک ریسرچ سنٹر کے سربراہ بسام ابو عبداللہ کا کہنا ہے کہ پیر سے قبل بات چیت کیلئے قوانین مقرر تھے لیکن اب مزاحمتی محاذ اور اسرائیل کے درمیان کھلی جنگ ہو گی۔اب یہ واضح ہے کہ صورتحال اشتعال انگیزی کی طرف جا رہی ہے اور اب ہمیں شام، عراق یا دیگر جگہوں پر موجود امریکی اڈوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے کا مل سکتا ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں