بھارت:مغربی بنگال میں ’’نئی بابری مسجد‘‘ کا سنگ بنیاد
تقریب میں ہزاروں مسلمان شریک ،نامعلوم شخص تعمیر کیلئے 80 کروڑ روپے دیگا یہ چھوٹے پیمانے پر بابری مسجد کی بالکل نقل ہوگی:مسجد منتظم ہمایوں کبیر کا دعویٰ ریاست میں کشیدگی ،کولکتہ میں ہندو وں کا گیتا پاٹھ پروگرام، 5 لاکھ افراد شریک
مرشد آباد (آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی ریاست مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ، ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی)کے معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی،سینکڑوں شرکا علامتی طور پر ہاتھوں یا سر پر اینٹیں رکھ کر تقریب میں پہنچے، مختلف اضلاع سے تعمیراتی سامان سے بھرے ٹریکٹر اور ٹرک لے کر مسلمان شریک ہوئے۔ یہ تقریب 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کی 33 ویں برسی کے موقع پر منعقد کی گئی، سنگ بنیاد کی تقریب نے ریاست بھر میں کشیدہ فرقہ وارانہ صورتحال پیدا کردی ہے، انتظامیہ کی جانب سے بھاری سکیورٹی تعینات کی گئی۔
مسجد کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کیلئے سینکڑوں کلومیٹر دور سے بھی مسلمان آئے۔ مسجد کے منتظم ہمایوں کبیر نے دعویٰ کیا کہ یہ چھوٹے پیمانے پر بابری مسجد کی بالکل نقل ہوگی،انہوں نے کہا ہمیں سرکاری فنڈز کی ضرورت نہیں، میں اس شخص کا نام نہیں بتاؤں گا جو مسجد کی تعمیر کے لئے ہمیں 80 کروڑ روپے دینے کو راضی ہے۔ ایم ایل اے ہمایوں کبیر کا کہنا تھا کہ ہمیں حکومت کی طرف سے ایک روپیہ نہیں چاہیے ورنہ مسجد کا تقدس برقرار نہیں رہے گا۔دوسری جانب مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کے اگلے روز مغربی بنگال کے کولکتہ بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں بیک وقت پانچ لاکھ ہندووں نے گیتا کو پڑھا۔ تقریب میں ملک بھر سے لاکھوں سنتوں نے بھی شرکت کی۔ ریاستی انتظامیہ نے علاقے میں بھاری نفری تعینات کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو روکا جا سکے ۔ 6 دسمبر کو مسجد کے سنگ بنیاد رکھنے کے فیصلے نے ریاستی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے ۔بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے ہمایوں کبیر کیخلاف شدید ردعمل دیتے ہوئے اس اقدام کو فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔